جامعہ کراچی کے بعد شاہ عبداللطیف یونیورسٹی نے بھی شفافیت اور میرٹ کو بنیاد بنا کر ایل ایل بی کے 1 ہزار 184 غیر قانونی تعلیمی اندراجات اور متعلقہ اسناد کو کالعدم قرار دے دیا، جبکہ صرف 64 امیدواروں کا تعلیمی ریکارڈ درست اور قانونی قرار دیا گیا ہے۔
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی نے اسناد کو کالعدم قرار دینے کے بعد نوٹیفکیشن کی نقول ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان بار کونسل اور متعلقہ صوبائی بار کونسلز کو ارسال کردی ہیں۔
شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی تحقیقاتی کمیٹی نے متعلقہ امیدواروں کے امتحانی ریکارڈ، حاضری شیٹس، فیس ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزی شواہد کی جامع جانچ پڑتال کے بعد 1,184 امیدواروں کا تعلیمی ریکارڈ جعلی قرار دیا ہے جبکہ 64 کو مستند اور قانونی قرار دیا گیا ہے۔
غیر قانونی اندراجات کے خلاف سخت کارروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر یوسف خشک کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کے منظور شدہ فیصلوں اور سینئر پروفیسرز و افسران پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں دونوں نوعیت کے فیصلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے ہیں۔
متعلقہ تفصیلات عوامی آگاہی اور شفافیت کے لیے یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردی گئی ہیں۔