کراچی: بےنظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کراچی کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ دس برسوں کے دوران 14 لاکھ 48 ہزار 624 مریض لائے گئے، جن میں 3 لاکھ 28 ہزار 841 مریض روڈ ٹریفک حادثات کا شکار ہوئے، جبکہ اس عرصے میں فائرنگ کے 9 ہزار 634 کیسز رپورٹ ہوئے اور 5 ہزار 45 افراد کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا۔
یہ اعداد و شمار ٹراما آگاہی ہفتہ 2026 اور عالمی یومِ ٹراما کی اختتامی تقریب میں پیش کیے گئے، جو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے معین آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ایس ایم بی بی انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر میمن نے ادارے کی گزشتہ دس برسوں کی کارکردگی اور خدمات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔
پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ ادارے نے 2016 سے اب تک ٹراما اور جراحی کی ایمرجنسی، زخمی مریضوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی طبی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار سے ٹریفک حادثات اور فائرنگ کے واقعات کے باعث اسپتالوں پر پڑنے والے دباؤ اور بروقت طبی امداد کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔
تقریب میں سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ دیگر شرکا میں سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر کاشف گلزار شیخ، ڈاؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی اور موجودہ وائس چانسلر پروفیسر نازلی حسین بھی شامل تھیں۔
تقریب کے دوران ٹراما سرجری میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور پاکستان ٹراما کورس کے فروغ سے متعلق علمی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔ ڈاکٹر دیویا کیولرامنی نے ٹراما سرجری میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ کردار پر آن لائن سیشن پیش کیا،
مقررین نے حادثات کی روک تھام اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے روڈ سیفٹی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی، تیز رفتاری سے گریز، دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہ کرنا اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ جبکہ گاڑیوں میں سیٹ بیلٹ کا استعمال حادثات کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور معذوری میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
تقریب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حادثات کی روک تھام صرف حکومت یا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نہیں، بلکہ صحت کے اداروں، ریسکیو سروسز، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عوام کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔