کراچی: جناح اسپتال کراچی میں ٹریفک حادثات سے بچاؤ اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی و جسمانی نقصانات سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے ٹراما واک اور ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں طبی ماہرین اور انتظامی افسران نے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد، حادثات کی روک تھام اور ٹراما سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال خالد شیر نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 30 ہزار افراد ٹریفک حادثات کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
واک جناح اسپتال کے ایڈمن بلاک سے نجم الدین آڈیٹوریم تک نکالی گئی، جس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح اسپتال خالد شیر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان، ایمرجنسی انچارج ڈاکٹر عرفان صدیقی، ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو سمیت ایمرجنسی کے ڈاکٹروں، نرسوں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر نے شرکت کی۔
اس موقع پر خالد شیر نے کہا کہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی سنگینی ان سے متعلق اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو سراہتے ہوئے انہیں ہیروز قرار دیا، جو حادثات کے بعد زخمیوں کی جان بچانے اور انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک حادثات میں کمی آئی ہے اور اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور اسپتالوں سمیت متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک حادثات نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے نتیجے میں متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو طویل عرصے تک مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ متعلقہ ادارے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹراما کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی شکل میں انسان کو زندگی کے دوران ٹراما کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سول سروس میں آنے سے پہلے وہ ٹریفک پولیس میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، اس لیے ٹریفک حادثات سے متعلق آگاہی کی اہمیت سے واقف ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی واک اور ورکشاپس ضروری ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ حادثات سے کیسے بچا جائے اور ٹراما کی صورت میں کس طرح مؤثر انداز میں نمٹا جائے۔
جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلیمان نے کہا کہ ٹراما کی کئی اقسام ہیں، جن میں صنعتی اور گھریلو حادثات بھی شامل ہیں۔ تاہم، ان کے بقول پاکستان میں ٹراما کے واقعات کا جامع اندراج کرنے کے لیے کوئی مؤثر اور مربوط نظام موجود نہیں، جبکہ ان واقعات سے نمٹنے کے لیے بھی منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل کے حادثات خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ کسی حادثے میں فریکچر یا شدید چوٹ لگنے کی صورت میں متاثرہ شخص کو کئی ماہ تک گھر میں رہنا پڑ سکتا ہے، جس سے اس کی روزمرہ زندگی اور معاشی حالات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے ٹراما سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
جناح اسپتال شعبہ حادثات کے انچارج ڈاکٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ٹراما واک اور ورکشاپ کا مقصد ان افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی تھا جنہوں نے ٹریفک حادثات میں اپنے پیاروں کو کھویا ہے، جبکہ عوام کو حادثات کے خطرات سے آگاہ کرنا بھی اس اقدام کا بنیادی مقصد تھا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایک میڈیکل طالبہ بھی ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق ٹریفک حادثات میں خواتین کے متاثر ہونے کے واقعات بھی توجہ طلب ہیں، خصوصاً اسکوٹی اور موٹر سائیکل چلانے والی خواتین کو درپیش خطرات کے تناظر میں احتیاطی تدابیر اور تربیت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ڈاکٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ معمولی سی غلطی بھی کسی شخص کی جان لے سکتی ہے اور ٹریفک حادثات میں 12 سال کی عمر کے بچے بھی زندگی سے محروم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور قانون کی پابندی سے حادثات کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ای چالان کا نظام متعارف ہونے کے بعد ٹریفک حادثات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، احتیاط سے گاڑی اور موٹر سائیکل چلائیں اور اپنی اور دوسروں کی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دیں۔