اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان کی جانب سے حج و عمرہ زائرین کے لیے گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں پانچ رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی ہے، جسے 48 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہفتے کی صبح اسلام آباد میں ہوگا، جس میں ویکسین کی خریداری سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لینے کے علاوہ متعلقہ حکام کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے۔
وزیراعظم آفس سے 16 اکتوبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق کابینہ سیکریٹری کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، اٹارنی جنرل آفس کا نمائندہ اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔
ایم ڈی پیپرا کمیٹی کے سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی انجام دیں گے جبکہ کابینہ ڈویژن کمیٹی کو انتظامی معاونت فراہم کرے گا۔
یہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع کی جارہی ہیں جب سات دوا ساز اور ویکسین فراہم کرنے والی کمپنیوں نے بارڈر ہیلتھ سروسز کی جانب سے ویکسین کی فراہمی کا ٹھیکہ دینے کے عمل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
درخواست گزار کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹینڈر کے عمل میں شفاف مسابقت کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور صرف ایک بولی دہندہ کی شرکت کے باوجود ٹھیکہ دینے کا عمل آگے بڑھایا گیا۔ ان اعتراضات پر عدالت میں کارروائی جاری ہے اور تاحال کسی بے ضابطگی کا حتمی تعین نہیں ہوا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ ویکسین کی خریداری کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا طریقہ کار کیوں اختیار کیا گیا، اس کی قانونی بنیاد کیا تھی اور کیا متعلقہ اداروں سے ضروری منظوری حاصل کی گئی تھی۔
کمیٹی ٹینڈر دستاویزات، بولیوں کی جانچ پڑتال، ویکسین کی مقدار، قیمتوں، ادائیگیوں کی شرائط، آمدن کی تقسیم اور پیپرا قوانین پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لے گی۔
اس کے علاوہ کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ ویکسین کی قیمتیں مناسب تھیں یا نہیں اور اس معاہدے میں عوامی مفاد اور سرکاری مالی مفادات کا کس حد تک تحفظ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عمرہ زائرین سے ویکسینیشن پیکیج کی مد میں تقریباً 4500 روپے وصول کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اس پیکیج میں گردن توڑ بخار اور انفلوئنزا کی ویکسین، پولیو کے قطرے اور ویکسینیشن سرٹیفکیٹ شامل تھے۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے جاری صحت کی شرائط میں گردن توڑ بخار اور پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ضروری قرار دی گئی ہیں، تاہم موسمی انفلوئنزا ویکسین کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔
اس صورتحال میں عمرہ زائرین کے لیے انفلوئنزا ویکسین کو پیکیج میں شامل کرنے اور اس کی قیمت وصول کرنے کے معاملے پر بھی سوالات سامنے آئے تھے۔
وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ تحقیقات کے دوران کوئی بے ضابطگی سامنے آنے کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ضروری اصلاحی اقدامات کی سفارشات بھی پیش کی جائیں۔
کمیٹی اپنی رپورٹ اور سفارشات 48 گھنٹوں میں وزیراعظم کو پیش کرے گی۔