کراچی: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، غذائی قلت، معاشی بدحالی اور ذہنی صحت کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ شدید مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا شکار خاندانوں کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ایسوسی ایشن نے کراچی کے بن قاسم اور احسن آباد کے علاقوں میں معاشی مشکلات سے منسلک خاندانوں کے المناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غذائی عدم تحفظ، قرضوں اور سماجی تنہائی کے مسائل کو نظر انداز کرنا مزید انسانی المیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
عالمی یومِ خوراک 2026 کے موقع پر جاری کردہ بیان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس سال عالمی دن کا موضوع ’’آج جدت، کل بہتر غذا‘‘ (Innovate Today, Nourish Tomorrow) پائیدار غذائی نظام کی تشکیل اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، تاہم پاکستان میں معاشی مشکلات اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے باعث غذائی تحفظ اور صحت عامہ کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پی ایم اے کے مطابق مسلسل معاشی بحران، مہنگائی اور بنیادی معاشی مسائل نے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بہت سے گھرانوں کے لیے مناسب اور متوازن غذا کا حصول مشکل ہوتا جارہا ہے، جس کے بچوں کی جسمانی نشوونما اور ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 33 فیصد سے زائد بچے نشوونما میں کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جبکہ بچوں میں شدید غذائی قلت کی ایک اور کیفیت ویسٹنگ کی شرح بھی تشویش ناک سمت میں بڑھ رہی ہے۔ بیان میں جنوبی ایشیا میں پاکستان کی بھوک کی صورت حال کو بھی انتہائی سنگین قرار دیا گیا۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس بات پر زور دیا کہ غذائی تحفظ، جسمانی صحت اور ذہنی صحت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ معاشی بدحالی، قرضوں کا بوجھ، خوراک کی کمی اور سماجی تنہائی نہ صرف جسمانی صحت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی میں بھی اضافہ کرسکتے ہیں۔
پی ایم اے نے کراچی کے بن قاسم اور احسن آباد میں بچوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سمیت پورے خاندانوں کے المناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال معاشی مشکلات اور ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو بروقت مدد فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
ایسوسی ایشن نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، غیر سرکاری تنظیموں، مقامی برادریوں اور صحت عامہ کے حکام پر زور دیا کہ وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات کریں۔
پی ایم اے نے مطالبہ کیا کہ بنیادی مراکز صحت اور بڑے سرکاری اسپتالوں میں 24 گھنٹے فعال ذہنی صحت کے ڈیسک قائم کیے جائیں، جہاں نفسیاتی ہنگامی امداد اور غذائیت سے متعلق طبی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ ذہنی صحت کے علاج، ضروری نفسیاتی ادویات اور بنیادی غذائی معاونت کو سرکاری صحت کی سہولتوں اور سبسڈی پر مبنی سماجی تحفظ کے پروگراموں میں شامل کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ذہنی صحت سے متعلق معاشرتی بدنامی اور خاموشی ختم کرنے کے لیے عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار افراد بلا خوف و جھجک مدد حاصل کرسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے خاندانوں کے لیے فوری امدادی نظام قائم کیا جائے جو قرضوں، خوراک کی کمی اور رہائش کے عدم تحفظ کا سامنا کررہے ہیں۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ انسانی المیوں کی روک تھام صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، محلہ کمیٹیوں اور مقامی اداروں کو چاہیے کہ وہ مشکلات میں گھرے افراد اور خاندانوں کی نشاندہی کرکے ان کی مدد کریں۔
پی ایم اے کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے عوام پر زور دیا کہ شدید ذہنی دباؤ، غذائی قلت یا مالی مشکلات کا شکار افراد خاموشی سے تکلیف برداشت کرنے کے بجائے اپنے اہل خانہ، قابلِ اعتماد ساتھیوں یا مقامی معاونتی نظام سے رابطہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پریشانی میں مبتلا افراد کی مدد کرنا ہر شہری کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔