مرمت کے فنڈز جاری ہونے کے باوجود جناح اسپتال کا انسینریٹر بند، تحقیقات کا حکم

کراچی: مرمت و بحالی کے لیے سرکاری فنڈز کے اجرا کے باوجود جناح اسپتال میں طبی فضلہ تلف کرنے والا انسینریٹر بند اور خستہ حال نکلا، جس پر محکمہ صحت سندھ نے ادائیگیوں اور فنڈز کے استعمال کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی۔

محکمہ صحت کو لکھے گئے ایک شکایتی خط میں مختلف مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 4 سے 5 ارب روپے تک نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم محکمہ صحت کے نوٹیفکیشن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انسینریٹر کی مرمت اور اسے فعال بنانے کے لیے کتنی رقم جاری یا خرچ کی گئی۔

جناح اسپتال جیسے بڑے سرکاری ادارے میں خطرناک طبی فضلہ تلف کرنے کا نظام بند اور غیر محفوظ رہنا محکمہ صحت سندھ اور سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی کارکردگی پر سنگین سوال ہے۔ دونوں ادارے اسپتال کے فضلے کی محفوظ تلفی، انسینریٹر کی حالت اور ماحولیاتی قوانین پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی کرنے میں بظاہر ناکام رہے۔

محکمہ صحت سندھ کے نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی مالی سال 2025-26 کے دوران مینٹیننس اینڈ ریپیئر فنڈز کے استعمال، ادائیگیوں کے قانونی جواز اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے انسینریٹر کی موجودہ حالت کی تحقیقات کرے گی۔

انکوائری ایگزیکٹو انجینئر غلام محمد وسٹرو اور کراچی سینٹرل الیکٹریکل اینڈ مکینیکل ڈویژن کے ڈویژنل اکاؤنٹس افسر منور کے خلاف دائر شکایت پر شروع کی گئی ہے۔ دونوں افسران پر عائد الزامات سے متعلق ان کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیکریٹری جنرل محکمہ صحت سندھ زاہد جونیجو کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر اور شعبہ امراض چشم کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد بھٹو اس کے رکن ہوں گے۔ کمیٹی ضرورت پڑنے پر کسی دوسرے افسر کو بھی شریک رکن بنا سکے گی۔

کمیٹی کو مرمت و بحالی کے فنڈز کا مکمل ریکارڈ جانچنے، ادائیگیوں کے قانونی جواز کا تعین کرنے اور کسی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داروں کی نشاندہی کا حکم دیا گیا ہے۔

کمیٹی یہ بھی معلوم کرے گی کہ انسینریٹر کو فعال بنانے کے لیے کتنی رقم خرچ کی گئی اور سرکاری خزانے سے ادائیگیوں کے باوجود طبی فضلہ تلف کرنے کی یہ اہم سہولت بند اور خستہ حال کیوں رہی۔

محکمہ صحت نے کمیٹی کو تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ اور سفارشات 15 روز میں مجاز اتھارٹی کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کو بھیجے گئے شکایتی خط میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جناح اسپتال کا طبی فضلہ تلف کرنے کا نظام عملاً غیر فعال ہے، جبکہ انسینریٹر کی مشینری، عمارت اور اندرونی حرارتی خانہ شدید خستہ حالی کا شکار ہیں۔

خط کے مطابق انسینریٹر کی عمارت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہورہا ہے، مرکزی دروازہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ اندرونی حرارتی خانے کی حفاظتی تہہ مکمل طور پر خراب ہوچکی ہے۔ خستہ حال محراب کے گرنے کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ الیکٹرک موٹر کی تاریں کھلی ہوئی ہیں اور مرکزی کنٹرول پینل پر گندگی جمی ہے۔ موجودہ حالت میں انسینریٹر چلانے سے شارٹ سرکٹ، آگ لگنے اور آپریٹر کو بجلی کا جھٹکا لگنے کا خدشہ ہے۔

شکایت کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ انسینریٹر کی مرمت و بحالی کے لیے جاری فنڈز، ادائیگیوں، ورک آرڈرز اور مکمل کیے گئے کام کا ریکارڈ طلب کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

خط کے مطابق معاملہ وزیر صحت کے علم میں لائے جانے کے بعد بند انسینریٹر کو دوبارہ چلانے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خستہ حال مشینری کو کس نے محفوظ قرار دیا اور اسے چلانے کی اجازت کس نے دی۔

واضح رہے کہ شکایتی خط میں عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق اور کسی افسر کی ذمہ داری کا حتمی تعین تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہوگا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں