کراچی: ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں شدید درد کے مریض مورفین کو ترس رہے ہیں، قومی ادارہ برائے امراض قلب میں تین ہزار سے زائد ایمپولز استعمال ہوئے بغیر ایکسپائر ہوگئے۔
مورفین شدید درد کم کرنے کی اہم دوا ہے، خصوصاً کینسر میں مبتلا بچوں اور بڑوں کے لیے، جن کی بیماری یا اس کے پھیلاؤ سے ناقابلِ برداشت تکلیف ہوسکتی ہے۔ طبی ضرورت کے مطابق یہ دوا حادثات، شدید چوٹوں اور دیگر حالات میں شدید درد کے علاج کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، جبکہ بعض مریضوں کی تسکینی نگہداشت میں سانس کی شدید تکلیف کم کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔
وائٹلز نیوز کو فراہم کردہ دستاویزی تفصیلات کے مطابق، فارماسسٹ طلحہ محبوب خان نے 24 دسمبر 2025 کو اسسٹنٹ منیجر فارمیسی سروسز صائمہ سلیم کو لکھے گئے خط میں بتایا تھا کہ مورفین کی 3,191 ایمپولز نارکوٹک کیبنٹ میں موجود تھیں۔ ان کی میعاد صرف چھ دن بعد، 30 دسمبر 2025 کو ختم ہونا تھی۔
خط کے مطابق، اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 تک مورفین کی 2,809 ایمپولز استعمال ہوئی تھیں، جبکہ باقی ذخیرہ کیبنٹ میں محفوظ تھا اور اس کی چابی متعلقہ افسر کے حوالے کردی گئی تھی۔ یوں چھ ہزار ایمپولز کے مجموعی ذخیرے کا تقریباً 53 فیصد میعاد ختم ہونے سے چند روز پہلے تک استعمال نہیں ہوا تھا۔
اسی سال مورفین کی قلت کی شکایات بھی سامنے آچکی تھیں۔ اگست 2025 میں دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں انجیکشن کی شکل میں مورفین کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا، جبکہ شدید درد میں مبتلا بچوں اور بزرگوں سمیت مریضوں کو اس دوا کی ضرورت تھی۔
اسی رپورٹ میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال لاہور اور انڈس اسپتال کراچی میں مورفین دستیاب ہونے کے باوجود اس کی سال بھر مسلسل فراہمی کی ضرورت بیان کی گئی تھی۔ اس سے قبل اپریل 2022 میں دی نیوز کو ڈاکٹر شمویل اشرف نے بتایا تھا کہ کوٹے اور اجازت ناموں کے حصول میں چھ ماہ سے ایک سال لگ سکتا ہے، جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی شوکت خانم کے لیے منظوری کے طویل عمل کی تصدیق کی تھی۔
فروری 2022 میں بچوں کے ماہرینِ سرطان نے وائٹلز نیوز کو بتایا تھا کہ مورفین کی عدم دستیابی سے کینسر میں مبتلا بچے دن رات شدید درد برداشت کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی بچوں میں درد کے علاج سے متعلق رہنمائی بھی زندگی محدود کرنے والی بیماریوں اور آخری ایام کی نگہداشت میں، مناسب طبی نگرانی کے تحت، مورفین کے استعمال کی گنجائش دیتی ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے ترجمان عبدالناصر کی جانب سے پیر کو جاری وضاحتی بیان میں انتظامیہ نے انجیکشن ایکسپائر ہونے سے سرکاری خزانے کو 80 لاکھ روپے سے زائد نقصان پہنچنے کی خبر مسترد کردی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ایکسپائرڈ ایمپولز سپلائر کو واپس کیے جائیں گیےاور کمپنی ان کے بدلے نیا اسٹاک بغیر کسی اضافی ادائیگی کے فراہم کرے گی۔
انتظامیہ نے اپنے بیان میں ایکسپائرڈ انجیکشن واپس کرنے اور متبادل اسٹاک لینے کا طریقہ کار بتایا، تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ اتنی بڑی مقدار استعمال کیوں نہ ہوسکی اور میعاد ختم ہونے سے پہلے کیا اقدامات کیے گئے۔ بیان میں واپسی کی کارروائی مکمل ہونے یا نئے اسٹاک کی فراہمی کی کوئی حتمی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔
اسی سال مورفین کی قلت کی شکایات بھی سامنے آچکی تھیں۔ اگست 2025 میں دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق، آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں انجیکشن کی شکل میں مورفین کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا، جبکہ شدید درد میں مبتلا بچوں اور بزرگوں سمیت مریضوں کو اس دوا کی ضرورت تھی۔
اسی رپورٹ میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال لاہور اور انڈس اسپتال کراچی میں مورفین دستیاب ہونے کے باوجود اس کی سال بھر مسلسل فراہمی کی ضرورت بیان کی گئی تھی۔ اس سے قبل اپریل 2022 میں دی نیوز کو ڈاکٹر شمویل اشرف نے بتایا تھا کہ کوٹے اور اجازت ناموں کے حصول میں چھ ماہ سے ایک سال لگ سکتا ہے، جبکہ ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی شوکت خانم کے لیے منظوری کے طویل عمل کی تصدیق کی تھی۔
فروری 2022 میں بچوں کے ماہرینِ سرطان نے دی نیوز کو بتایا تھا کہ مورفین کی عدم دستیابی سے کینسر میں مبتلا بچے دن رات شدید درد برداشت کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی بچوں میں درد کے علاج سے متعلق رہنمائی بھی زندگی محدود کرنے والی بیماریوں اور آخری ایام کی نگہداشت میں، مناسب طبی نگرانی کے تحت، مورفین کے استعمال کی گنجائش دیتی ہے۔
این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کے مطابق، مورفین قانونی طور پر کنٹرول شدہ نارکوٹک دوا ہے، جس کی خریداری، فراہمی، ذخیرہ کرنے، استعمال اور واپسی کے لیے متعلقہ اداروں کی اجازت اور مخصوص ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ انجیکشن درآمدی شپمنٹ کے ذریعے فراہم ہوتے ہیں اور ان کی دستیابی عام ادویات کی طرح نہیں ہوتی۔
بیان کے مطابق، ایکسپائرڈ ایمپولز فوری طور پر سپلائر کو واپس نہیں کی جاسکتیں بلکہ ڈرگ انسپکٹر کے معائنے، تصدیق اور قانونی کارروائی کی تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس عمل کے بعد مفت متبادل اسٹاک ملنے سے ادارے کو دوبارہ کوئی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
انتظامیہ نے ادویات کی خریداری، وصولی، ذخیرہ کرنے اور استعمال کے لیے باقاعدہ انوینٹری نظام اور اسٹاک رجسٹر موجود ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ اس کے مطابق مورفین جیسی کنٹرول شدہ ادویات کے لیے اضافی ریکارڈ، اسٹاک کی تصدیق اور احتسابی تقاضوں کی پابندی کی جاتی ہے۔
تاہم، وضاحتی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نگرانی کے اس نظام کے باوجود ہزاروں ایمپولز میعاد ختم ہونے تک کیسے باقی رہ گئیں، یا متعلقہ حکام کی اجازت سے انہیں ضرورت مند علاج گاہوں تک پہنچانے کا کوئی امکان تلاش کیا گیا تھا یا نہیں۔ مفت متبادل اسٹاک کی یقین دہانی کے باوجود یہ سوال بدستور جواب طلب ہے کہ پہلے سے موجود دوا کو بروقت مریضوں کے علاج میں استعمال کیوں نہیں کیا جاسکا۔