کراچی: ماہرین امراض کینسر کا کہنا ہے کہ بریسٹ کینسر کے علاج کے دوران مالی مشکلات، مہنگی ادویات، معاشرتی دباؤ اور بیماری سے متعلق غلط فہمیاں خواتین کی صحت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔ جناح اسپتال شعبہ کینسر کے سربراہ ڈاکٹر غلام حیدر کے مطابق اسپتال میں آنے والے کینسر کے مریضوں میں سے تقریباً 25 فیصد مالی مشکلات کے باعث علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، جناح اسپتال کی ماہر امراض کینسر ڈاکٹر صائمہ ظہور کے مطابق 60 فیصد سے زائد مریض علاج کے لیے تاخیر سے اسپتال پہنچتے ہیں، جس سے بیماری پیچیدہ اور صحت یابی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
جناح اسپتال کے زیر اہتمام دو روزہ بریسٹ کون کے آخری روز جناح اسپتال شعبہ کینسر کے سربراہ ڈاکٹر غلام حیدر کا کہنا تھاکہ جناح اسپتال میں کینسر کے مریضوں کا علاج مخیر حضرات، فلاحی اداروں اور زکوٰۃ فنڈ کی مدد سے کیا جا رہا ہے، تاہم یہ مالی معاونت مسلسل دستیاب نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے مریضوں کو علاج کے دوران ادویات کی عدم دستیابی اور دیگر مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کینسر کی ادویات انتہائی مہنگی ہونے کے باعث علاج میں وقفہ آ جاتا ہے، جس سے علاج کے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگر آپریشن کے بعد مریض کو اگلے چھ ماہ کے دوران ضروری علاج اور ادویات نہ مل سکیں تو بیماری دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ بعض مریض مالی وسائل ختم ہونے پر علاج چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں اور کئی ماہ بعد واپس آتے ہیں تو رسولی بہت بڑی ہو چکی ہوتی ہے، جس سے علاج کی کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر غلام حیدر کا کہنا تھا کہ کینسر کے مریض کے آپریشن سے لے کر مکمل علاج تک 30 سے 40 لاکھ روپے تک خرچ آ سکتا ہے۔ اس میں آپریشن، ریڈیوتھراپی، ادویات اور انجیکشن شامل ہیں۔ کیموتھراپی کے دوران مضر اثرات سامنے آنے پر اضافی ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور دیگر طبی سہولتوں کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، جس سے اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کینسر کے مریضوں کے لیے مستقل مالی معاونت کا نظام قائم کیا جائے، کیونکہ صرف مخیر حضرات کے تعاون پر انحصار کافی نہیں۔
جے پی ایم سی کی اسسٹنٹ پروفیسر میڈیکل آنکولوجی اور کانفرنس کی کو چیئر ڈاکٹر صائمہ ظہور کے مطابق بریسٹ کینسر کے 60 فیصد سے زائد مریضوں کو تشخیص یا علاج کے مختلف مراحل میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں معاشرتی دباؤ، بیماری پر بات کرنے میں جھجک، بائیوپسی سے متعلق غلط فہمیاں، موت کا خوف اور علاج کے اخراجات شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بعض خواتین چھاتی میں گلٹی محسوس ہونے کے باوجود معاشرتی دباؤ اور شرم کے باعث ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں۔ کچھ خواتین کو خدشہ ہوتا ہے کہ بائیوپسی کروانے سے کینسر پھیل سکتا ہے، جبکہ بعض مریضائیں کیموتھراپی اور آپریشن سے متعلق خوف کی وجہ سے علاج میں تاخیر کرتی ہیں۔ کئی مریض جدید طبی علاج کے بجائے متبادل طریقہ ہائے علاج اختیار کر لیتی ہیں اور کئی ماہ ضائع کرنے کے بعد اسپتال پہنچتی ہیں۔
ڈاکٹر صائمہ ظہور نے بتایاکہ بعض مریضائیں نجی شعبے میں علاج شروع کرتی ہیں، لیکن مہنگی ادویات اور کیموتھراپی کے اخراجات برداشت نہ کر پانے کے باعث علاج درمیان میں چھوڑ دیتی ہیں۔ خاص طور پر HER2 مثبت بریسٹ کینسر میں بعض مریضوں کو مہنگی ٹارگٹڈ ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ مالی وسائل ختم ہونے کے بعد مریض بیت المال، فلاحی اداروں یا سرکاری معاونت کے لیے رجوع کرتے ہیں، جس سے علاج میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور بروقت علاج سے صحت یابی کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، لیکن تاخیر کے باعث بیماری آگے بڑھ سکتی ہے اور علاج زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ چھاتی میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
جے پی ایم سی کی جنرل سرجن ڈاکٹر سیدہ زریں رضا کا کہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کی مریضائیں عموماً چھاتی میں گلٹی، نپل سے رطوبت کے اخراج یا بعض اوقات درد کی شکایت کے ساتھ اسپتال آتی ہیں۔ تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ، میموگرافی اور بایوپسی کی جاتی ہے، جس کے بعد بیماری کے مرحلے اور نوعیت کے مطابق علاج کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بریسٹ کینسر کا علاج ہر مریضہ کے لیے یکساں نہیں ہوتا۔ ماہرین کی ٹیم فیصلہ کرتی ہے کہ پہلے کیموتھراپی کی جائے یا سرجری۔ بہت سی خواتین چھاتی کی ساخت متاثر ہونے، بال جھڑنے اور معاشرتی رویوں کے خوف سے علاج کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔
ڈاکٹر سیدہ زریں رضا کے مطابق چھاتی مکمل نکالنے سے بعض خواتین شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید طریقہ علاج میں ہر مریضہ کی چھاتی مکمل نکالنا ضروری نہیں، بلکہ بعض مریضاؤں میں چھاتی کو محفوظ رکھتے ہوئے کینسر نکالنے کی سرجری بھی ممکن ہے۔ آنکوپلاسٹک سرجری اور بریسٹ کنزرویشن سرجری کے ذریعے کینسر کے علاج کے ساتھ جسمانی ساخت اور مریضہ کے معیارِ زندگی کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آغاخان اسپتال کی ڈاکٹر ثناء ذیشان نے بریسٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے مستند اعداد و شمار اور قومی سطح پر رجسٹری قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق مختلف سرکاری، نجی اور فلاحی اسپتالوں میں مریضوں کی تشخیص، علاج اور بعد از علاج نگرانی کا ریکارڈ الگ الگ موجود ہے۔ ان معلومات کو یکجا کیے بغیر بیماری کے پھیلاؤ، علاج میں تاخیر اور مریضوں کے نتائج کا درست جائزہ لینا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی بریسٹ کینسر رجسٹری میں مریضوں کی عمر، بیماری کے مرحلے، رسولی کی نوعیت، علاج، بیماری کی واپسی اور زندہ رہنے کی شرح سے متعلق معلومات شامل ہونی چاہییں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے علاج کی خامیوں کی نشاندہی، طبی تحقیق اور صحت کی بہتر پالیسیاں بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر ثناء ذیشان نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سال 2022 میں 23 لاکھ بریسٹ کینسر کے نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور چھ لاکھ ستر ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، آخری بریسٹ کینسر سے ہونے والی اموات میں کمی کے لیے بروقت تشخیص، معیاری علاج اور مختلف اسپتالوں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کے 2040 تک بریسٹ کینسر سے ہونے والی اموات میں نمایاں کمی کے ہدف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے تحقیق اور عملی اقدامات کو یکجا کرنا ہوگا۔
شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ نے کہاکہ کینسر کے مریضوں کا بوجھ سرکاری اسپتالوں پر بہت زیادہ ہے اور موجودہ سہولتیں مریضوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ کینسر کے علاج کے بھاری اخراجات کے باعث بعض مریضوں کو علاج جاری رکھنے کے لیے گھر فروخت کرنے یا قرض لینے تک کی نوبت آ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے بڑے پیمانے پر اسکریننگ پروگرام شروع کرنا ضروری ہے۔ میموگرافی کے ذریعے بیماری کو ابتدائی مرحلے میں شناخت کیا جا سکتا ہے، جس سے علاج آسان اور نتائج بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر بعض مریضوں کو کیموتھراپی کی ضرورت بھی نہیں پڑتی، تاہم ملک بھر میں اسکریننگ کے لیے حکومتی سطح پر منظم نظام اور بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔
ڈاکٹر نجیب نعمت اللہ کے مطابق بعض کینسر ادویات مقامی طور پر تیار ہونے اور جنیرک ادویات کی دستیابی سے علاج کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی ادویات کا معیار لازماً ناقص نہیں ہوتا، تاہم علاج کے لیے ادویات کے معیار اور افادیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کینسر کے علاج کا منصوبہ بناتے وقت بیماری کی نوعیت، مکمل صحت یابی کے امکانات اور مریض کی مالی استطاعت کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ مریضوں کو ایسی مالی مشکلات میں نہیں دھکیلنا چاہیے کہ انہیں علاج کے لیے اپنا گھر فروخت کرنا پڑے۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کا مستند ریکارڈ مرتب کرنے اور قومی رجسٹری کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مہمان خصوصی چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق رفیع نے کہا کہ بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج کے لیے اسکریننگ ضروری ہے، تاہم کئی مریض معاشرتی دباؤ اور خوف کے باعث علاج میں تاخیر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کانفرنسز آگاہی اور طبی تحقیق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر طارق رفیع کے مطابق طبی جامعات میں تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے، مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور مریضوں کے ڈیٹا کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ ایچ ای سی اساتذہ کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے اور تحقیق کرنے والوں کو دستیاب فنڈز کے ذریعے معاونت بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔