کراچی: ناظم آباد میں نومولود بچے کی مبینہ گمشدگی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، 16 فروری 2026 کو تیار کی گئی الٹراساؤنڈ رپورٹ کے مطابق خاتون کے رحم کا سائز اور ساخت معمول کے مطابق تھی اور الٹراساؤنڈ میں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
ہمدرد یونیورسٹی اسپتال کی ریڈیالوجی رپورٹ کے مطابق 24 سالہ زوبیہ زوجہ راشد کا 16 فروری کو الٹراساؤنڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں درج ہے کہ مریضہ کو 13 ہفتوں سے ماہواری نہیں ہوئی تھی، تاہم الٹراساؤنڈ میں رحم معمول کے سائز اور ساخت کا پایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رحم کا سائز 6.9 بائی 3.6 بائی 4.1 سینٹی میٹر تھا جبکہ اینڈومیٹریئم کی موٹائی 1.2 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
الٹراساؤنڈ رپورٹ میں دائیں اووری کو معمول سے قدرے بڑا، گول اور پولی سسٹک اووری جیسا قرار دیا گیا، جبکہ بائیں اووری کا سائز اور ساخت معمول کے مطابق تھی۔ رپورٹ میں پیٹ کے نچلے حصے میں فری فلوئڈ بھی نہیں پایا گیا۔
رپورٹ کے آخر میں حمل کی صورتحال جانچنے کے لیے Serum BHCG ٹیسٹ تجویز کیا گیا تھا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق خاتون 27 اگست کو شدید درد کی حالت میں اسپتال پہنچی اور اس کے پاس ایک الٹراساؤنڈ رپورٹ موجود تھی، جس پر 8 اگست کی تاریخ درج تھی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ پر ڈاکٹر کے جعلی دستخط اور اسپتال کا جعلی لوگو بھی موجود تھا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث فوری طور پر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران بچہ دانی معمول سے بہت چھوٹی پائی گئی، جس کے بعد صورتحال مشکوک ہوئی۔
انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے دوران خاتون کے والد کو لیبر روم میں بلا کر صورتحال دکھائی گئی، تاہم وہ گھبرا کر باہر چلے گئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیٹ کھولنے کے بعد اسے دوبارہ بند کیے بغیر مزید معائنہ ممکن نہیں تھا، اسی لیے والد کو دوبارہ بلا کر صورتحال دکھائی گئی۔
اسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خاتون بلڈ پریشر کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھی اور دستیاب جعلی الٹراساؤنڈ کو درست سمجھتے ہوئے فوری طور پر اس پر شبہ نہیں کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق کیس کو ہائپر میچیورٹی کی جانب جاتا ہوا سمجھا گیا تھا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھی، جس کے بعد معاملہ مزید تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کردیا گیا۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ سے متعلق تمام طبی ریکارڈ میڈیکل بورڈ کو فراہم کردیا گیا ہے جبکہ تمام ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی تفتیشی حکام کے حوالے کردی گئی ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق میڈیکل بورڈ کی تحقیقات اور فیصلے کے بعد معاملے کی مکمل صورتحال واضح ہوسکے گی۔