ہیٹ اسٹروک 10 سے 15 منٹ میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، این آئی ایچ کا انتباہ

اسلام آباد: قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک کے باعث جسمانی درجہ حرارت صرف 10 سے 15 منٹ میں 41.1 ڈگری سینٹی گریڈ (106 ڈگری فارن ہائیٹ) یا اس سے زیادہ تک پہنچ سکتا ہے، جو موت یا دماغ، دل، گردوں اور دیگر اعضا کو مستقل نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ادارے نے ملک بھر کے صحت حکام کو ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات، ہیٹ اسٹروک سینٹرز کے قیام اور طبی تیاریوں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

 

این آئی ایچ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان میں ہیٹ ویوز کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں گرمی سے متعلق بیماریوں اور اموات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

 

ادارے کے مطابق پاکستان حالیہ برسوں میں کئی شدید ہیٹ ویوز کا سامنا کر چکا ہے جن کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بیمار ہوئے اور متعدد جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ صحت کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہوا۔

 

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہیٹ اسٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے اور جسم کا قدرتی نظام حرارت خارج کرنے میں ناکام ہو جائے۔ شدید گرمی، زیادہ حبس، دھوپ میں طویل وقت گزارنا، سخت جسمانی مشقت اور پانی کی کمی اس کیفیت کو جنم دے سکتی ہے۔

 

این آئی ایچ نے خبردار کیا ہے کہ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور، کھلاڑی اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد ہیٹ اسٹروک کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

 

ادارے کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی علامات میں شدید بخار، بہت زیادہ پسینہ آنا یا پسینہ بند ہو جانا، جلد کا سرخ اور گرم ہو جانا، کمزوری، شدید سر درد، چکر آنا، ذہنی الجھن، لڑکھڑاتی ہوئی گفتگو، بے ہوشی اور بعض اوقات وہم یا بے ربط گفتگو شامل ہیں۔

 

این آئی ایچ نے ہدایت کی ہے کہ ہیٹ اسٹروک کے مشتبہ مریض کو فوری طور پر سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، اضافی کپڑے اتارے جائیں، جسم پر ٹھنڈا پانی ڈالا جائے اور پنکھے یا برف کی مدد سے جسمانی درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی جائے، جبکہ فوری طبی امداد حاصل کی جائے کیونکہ شدید متاثرہ مریضوں کو اسپتال میں داخل کر کے وریدی سیال (آئی وی فلوئڈز) دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

 

ایڈوائزری میں عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے، سخت جسمانی مشقت سے بچا جائے اور پانی کی کمی کی ابتدائی علامات، جن میں پٹھوں میں کھنچاؤ، متلی، قے، چکر آنا اور دل کی دھڑکن تیز ہونا شامل ہیں، کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

 

این آئی ایچ نے صوبائی محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور اسپتالوں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ ہیٹ ویوز سے قبل ہیٹ اسٹروک سینٹرز قائم کیے جائیں، عوامی مقامات پر ابتدائی طبی امداد کے مراکز بنائے جائیں اور وریدی سیال سمیت ضروری طبی سامان کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ گرمی سے ہونے والی بیماریوں اور اموات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

 

سی ڈی سی این آئی ایچ کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز علی خان کی جانب سے جاری کردہ اس ایڈوائزری میں زور دیا گیا ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر، عوامی آگاہی اور فوری طبی امداد ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی اموات اور سنگین پیچیدگیوں کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں-

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں