ڈھاکا (باختر نیوز ایجنسی): پاکستان سے ادویات کی برآمدات معطل ہونے کے بعد افغانستان کو درپیش سنگین طبی قلت کے تناظر میں افغانستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ادویات اور طبی مصنوعات کی فراہمی کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک نے افغانستان کی فوری طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
یہ پیش رفت ڈھاکا میں منعقدہ تیسویں بین الاقوامی تجارتی نمائش کے موقع پر سامنے آئی، جہاں افغانستان کے نائب وزیر برائے صنعت و تجارت مولوی احمداللہ زاہد نے بنگلہ دیش کے ادارہ فروغِ برآمدات کے سربراہ محمد حسن عارف کے ساتھ نمائش کے سرکاری حصے کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی حکومت کے نمائندے، چیمبرز آف کامرس کے عہدیداران، مقامی تاجر اور افغان وفد بھی موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحدی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سے افغانستان کو ادویات کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ پاکستان ماضی میں افغانستان کو سالانہ ایک سو پچاس سے دو سو ملین امریکی ڈالر مالیت کی ادویات برآمد کرتا تھا، جس کے رکنے سے افغان صحت کا شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
نمائش کے دوران افغان وفد نے ادویات سازی، ٹیکسٹائل اور صنعتی مصنوعات کے مختلف اسٹالز کا جائزہ لیا اور بنگلہ دیشی مصنوعات کے معیار، منظم پیداوار اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ نظام کو سراہا۔ افغان حکام نے کہا کہ ایسے تجارتی میلے باہمی اعتماد اور تجارتی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ملاقاتوں کے دوران بنگلہ دیشی حکام نے واضح کیا کہ ان کا ملک افغانستان کو عالمی معیار کے مطابق ادویات اور طبی مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کا فارماسیوٹیکل شعبہ نہ صرف مستحکم ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے۔
افغان وفد نے اس پیشکش کو موجودہ حالات میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قلت کے باعث افغانستان کو متبادل ذرائع کی طرف جانا پڑ رہا ہے۔ حکام کے مطابق افغانستان اس وقت ادویات کی فراہمی کے لیے بھارت، بنگلہ دیش، ایران اور ترکی جیسے ممالک کی طرف رجوع کر رہا ہے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
فریقین کے درمیان مشترکہ تجارتی اجلاسوں، کاروبار سے کاروبار روابط اور باضابطہ تعاون کے فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دوستانہ تعلقات کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو اور دونوں ممالک کو ٹھوس معاشی فوائد حاصل ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعطل برقرار رہا تو خطے میں ادویات کی تجارت کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے، جس میں بنگلہ دیش افغانستان کے لیے ایک اہم متبادل سپلائر کے طور پر ابھر سکتا ہے-
