آئی بی اے کراچی، آغا خان یونیورسٹی اور حبیب یونیورسٹی کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تدریسی نظام بہتر بنانے پر اتفاق

کراچی (19 اکتوبر 2026): انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی، آغا خان یونیورسٹی اور حبیب یونیورسٹی کے اشتراک سے سالانہ تدریسی و تعلیمی سمپوزیم 2026 منعقد کیا گیا، جس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال، اس کے مواقع اور درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔

آئی بی اے کراچی کے مرکزی کیمپس میں منعقدہ سمپوزیم کا موضوع ’’تدریس میں مصنوعی ذہانت کا کردار‘‘ تھا۔ تقریب میں کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں اور بیرون ملک سے تعلیمی ماہرین، جامعات کے سربراہان، اساتذہ اور محققین نے شرکت کی۔

افتتاحی کلمات میں کانفرنس کی چیئر اور آئی بی اے کراچی کے دفتر برائے تعلیمی معیار و بہتری کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ثنا توصیف نے تعلیم پر مصنوعی ذہانت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جامعات کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور تینوں جامعات کی قیادت کی کاوشوں کو سراہا۔

آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ کے ڈین ڈاکٹر فرید پنجوانی نے سمپوزیم کو مشترکہ کوششوں کے ذریعے تدریس اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

سمپوزیم میں ’’آج اور مستقبل کی تدریس: مصنوعی ذہانت کے دور میں جامعات کو کیا ترک، شروع اور جاری رکھنا چاہیے؟‘‘ کے عنوان سے ایک اہم پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس کی نظامت آئی بی اے کراچی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس اکبر زیدی نے کی۔

مباحثے میں آغا خان یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر سلیمان شاہاب الدین، حبیب یونیورسٹی کے صدر واصف رضوی، دربین کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمیٰ اسلم اور بی کن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر معید ڈبلیو یوسف نے شرکت کی۔ شرکا نے مصنوعی ذہانت کے باعث تدریسی طریقوں میں آنے والی تبدیلیوں اور مستقبل میں جامعات کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب کا ایک اہم حصہ آئی بی اے کراچی، آغا خان یونیورسٹی اور حبیب یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط تھے۔ اس معاہدے کے ذریعے تینوں اداروں نے تعلیمی تعاون، جدت اور تدریسی و تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو کی پروفیسر ڈاکٹر فضیلت صدیق نے ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں تنقیدی سوچ اور سیکھنے والوں کا اختیار: کیا اعلیٰ تعلیم پر ازسرنو غور کرنے کا وقت آگیا ہے؟‘‘ کے عنوان سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں تنقیدی سوچ، طلبہ کی خودمختاری اور ٹیکنالوجی، تدریسی طریقوں اور مضمون سے متعلق علم کو یکجا کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔

سمپوزیم میں انٹرایکٹو سیشنز، ایجوکیشنل ٹیکنالوجی انوویشن شوکیس، ویژول وائسز اور طلبہ کی جانب سے ایک پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔ تقریب کے اختتام پر ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔

اختتامی کلمات آغا خان یونیورسٹی کی وائس پرووسٹ برائے معیار، تدریس و تعلیم ڈاکٹر جین رارییا اور حبیب یونیورسٹی کے نائب صدر برائے تعلیمی امور ڈاکٹر محمد شاہد شیخ نے ادا کیے۔ مقررین نے اعلیٰ تعلیم میں جدت کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے جامعات کے درمیان اشتراکِ عمل کی اہمیت پر زور دیا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں