ٹریفک قوانین پر عمل کرکے 70 فیصد حادثات سے بچا جاسکتا ہے، ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ

کراچی: ٹریفک قوانین پر عمل درآمد، محفوظ رفتار، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے استعمال سے 70 فیصد ٹریفک حادثات سے بچا جاسکتا ہے، جبکہ عوامی آگاہی اور محفوظ ڈرائیونگ کو معاشرتی رویہ بنا کر قیمتی انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ٹریفک پیر محمد شاہ اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما (SMBBIT) کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر صابر میمن نے ٹراما آگاہی ہفتہ 2026 کی دوسرے روز کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما میں منعقدہ تقریبات کا مرکزی موضوع ’’ہم اپنے معاشرے میں چوٹوں اور حادثات سے کیسے بچاؤ کر سکتے ہیں؟‘‘ تھا، جس کے تحت ایک خصوصی انٹرایکٹو بین الادارہ جاتی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں صحت، ریسکیو، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے حادثات کی روک تھام اور عوامی آگاہی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈاکٹر صابر میمن نے کہا کہ انسانی جان ایک انمول نعمت ہے اور اسے غیر ضروری خطرات سے محفوظ رکھنا ہر فرد، ادارے اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سڑک پر چند لمحوں کی جلد بازی، غیر محتاط ڈرائیونگ، ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا اور ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرنا کسی فرد اور اس کے خاندان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ SMBBIT کی جانب سے ٹراما آگاہی ہفتے کا انعقاد عوام میں شعور اجاگر کرنے اور حادثات کی روک تھام کے حوالے سے معاشرتی ذمہ داری ادا کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ حادثات کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محفوظ ڈرائیونگ کو معاشرتی رویے کا حصہ بنایا جائے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کرکے تقریباً 70 فیصد حادثات سے بچا جاسکتا ہے۔ سڑک پر چند منٹ بچانے کے لیے اپنی یا کسی دوسرے کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا دانش مندی نہیں۔ محفوظ رفتار اختیار کرنا، ٹریفک اشاروں کی پابندی، حفاظتی سامان کا استعمال اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ایک محفوظ معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹراما سینٹر کراچی میں آنے والے مریضوں میں 70 فیصد ٹریفک حادثات کے متاثرین ہوتے ہیں، جبکہ ان کی صحت یابی کی شرح بھی اچھی ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔

ڈاکٹر صابر میمن نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ حادثات کی روک تھام اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہر انسانی جان قیمتی ہے۔ ٹریفک قوانین کی پاسداری، محفوظ رفتار، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون سے اجتناب اور دوسروں کے حقِ راستہ کا احترام ایسے بنیادی اقدامات ہیں جو سنگین حادثات کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسپتالوں، ریسکیو اداروں، ٹریفک پولیس، صحت عامہ کے ماہرین اور کمیونٹی کے درمیان مربوط تعاون کے ذریعے ٹراما سے بچاؤ کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ حادثات کی وجوہات کو سمجھنا، عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا اور احتیاطی تدابیر کو عام کرنا پائیدار بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق SMBBIT چوبیس گھنٹے ہنگامی طبی خدمات فراہم کرتا ہے اور حادثات یا شدید چوٹوں سے متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد اور ضروری علاج تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے ٹراما سینٹر میں روزانہ 550 سے زائد مریض لائے جاتے ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادارے میں مریضوں کا بالکل مفت علاج کیا جاتا ہے، جو عوام کو ہنگامی طبی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم خدمت ہے۔ تاہم، حادثات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے صرف علاج کافی نہیں بلکہ حادثات کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں آگاہی بھی ضروری ہے۔

تقریب میں مہمان خصوصی پروفیسر انیس بھٹی، ممبر گورننگ باڈی، ڈاکٹر عابد جلال، چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو 1122، ڈاکٹر جمیل، سربراہ شعبہ ایمرجنسی ڈاؤ ٹراما اسپتال، ڈاکٹر مختیار بھیو، عالمی ادارہ صحت (WHO) سندھ کے نمائندے، ڈاکٹر نوشین، ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC)، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس علی سواد سمیت دیگر شرکاء نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ٹریفک حادثات اور شدید چوٹوں کے واقعات میں کمی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون، قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی سطح پر آگاہی مہمات جاری رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے محفوظ ڈرائیونگ کو فروغ دینے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں