کراچی: کراچی میں گزشتہ 60 برس کے دوران دن کے درجہ حرارت میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ رات کے درجہ حرارت میں 2.4 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرات سے نمٹنے کے لیے شہر میں 10 ہزار شہری جنگلات قائم کرنے، مقامی آبادیوں کے لیے کولنگ سینٹرز بنانے، سولر توانائی کو فروغ دینے اور گرمی سے متعلق پیشگی انتباہی نظام بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی اور کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے اشتراک سے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کے لیے ’’شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور کراچی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تربیتی نشست میں انکشاف کیا گیا کہ شہر میں دن کے مقابلے میں رات کے درجہ حرارت میں زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس سے شہری علاقوں میں گرمی کے اثرات اور اس سے نمٹنے کے چیلنجز مزید اہم ہو گئے ہیں۔
اس موقع پر کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی کے ڈائریکٹر اور ماہرِ ماحولیات یاسر حسین ،کراچی پریس کلب کی ماحولیاتی کمیٹی کی سیکریٹری فہمیدہ یوسفی، اور سیکریٹری اسلم خان بھی موجود تھے۔
یاسر حسین نے کہا کہ موجودہ صورت حال محض موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک موسمیاتی بحران ہے، جس کی شدت کے مطابق اقدامات اور ردعمل نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے گرمی کے انسانی جسم پر اثرات، درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کے تعلق، ال نینو، پانی کی قلت، زراعت اور دریائے سندھ کے سکڑتے ڈیلٹا پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے واضح کیا کہ شدید گرمی کے دوران ہوا میں نمی کی زیادہ مقدار انسانی جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل بنا دیتی ہے۔ براہِ راست دھوپ، جسمانی مشقت اور ہوا کی کم رفتار بھی گرمی سے متاثر ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہیں، جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے بعض علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے تک بجلی کی بندش کے باعث شہریوں کی پنکھوں اور دیگر ٹھنڈک فراہم کرنے والے ذرائع تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ ہیٹ ویو کے دوران یہ صورت حال بالخصوص ان افراد کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے جن کے پاس متبادل توانائی یا ٹھنڈی جگہ تک رسائی نہیں ہوتی۔
شرکا کو کراچی کے موسمیاتی عملی منصوبے میں شامل گرمی سے متاثر ہونے کے خطرے کے نقشوں اور عمارتوں کی حرارتی عکس بندی سے متعلق تحقیقی مطالعات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ نشست میں آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کراچی اور مٹیاری میں گرمی سے بچاؤ کے لیے کیے گئے تجربات کا جائزہ پیش کیا گیا، جن میں عمارتوں کی چھتوں پر حرارت منعکس کرنے والی تہہ چڑھانا، ہوا کی آمدورفت بہتر بنانا اور چھتوں کو سایہ فراہم کرنا شامل ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ عمارتوں میں توانائی کی بچت کے اقدامات اور تعمیراتی قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے ذریعے بھی گرمی کے اثرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں 2023ء کے توانائی سے متعلق ضوابط اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تعمیراتی قوانین پر بھی گفتگو کی گئی۔
نشست میں کراچی کے لیے مرتب کردہ منصوبۂ ٹھنڈک کے اہم اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا، جن میں 10 ہزار شہری جنگلات قائم کرنا، ہیٹ ویو سے متعلق پیشگی انتباہی نظام کو بہتر بنانا، ماسٹر پلان 2047ء میں گرمی سے نمٹنے کے اقدامات شامل کرنا، صحت کے مراکز کو ہنگامی حالات کے لیے تیار رکھنا اور مقامی آبادیوں کے لیے کمیونٹی کولنگ سینٹرز قائم کرنا شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق شہری علاقوں میں درختوں اور سایہ دار مقامات میں اضافہ، سولر توانائی سے چلنے والے کولنگ سسٹم اور عمارتوں میں بہتر ہوا داری شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے زراعت اور قدرتی ماحول پر اثرات کو بھی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر فہمیدہ یوسفی نے کہا کہ کراچی پریس کلب میں ماحولیاتی کمیٹی قائم کرنے کا مقصد صحافیوں کو موسمیاتی بحران جیسے اہم موضوعات پر معلومات، تربیت اور مکالمے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق بحران کی شدت کے پیش نظر مؤثر گفتگو کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔