کراچی: امراضِ قلب سے بچاؤ کے لیے بیماری کی تشخیص کا انتظار کرنے کے بجائے ابتدائی عمر ہی سے احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، خون میں شوگر اور وزن کی باقاعدہ جانچ کے ساتھ صحت مند طرزِ زندگی اور ذہنی دباؤ پر قابو پا کر دل کی بیماریوں کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بات جامعہ کراچی میں عالمی یومِ قلب کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار کے مقررین نے کہی، جنہوں نے پاکستان میں امراضِ قلب کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے حکومت، طبی ماہرین اور عوام کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
سیمینار کا مشترکہ اہتمام پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس)، جامعہ کراچی، فارماکو اور یَس سوسائٹی آف پاکستان نے کیا۔ تقریب میں معالجین، سرجنز، سائنسی ماہرین، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔
سیمینار سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا شاہ نے کہا کہ امراضِ قلب پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت اور شہریوں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سائنسی تحقیق اور طبی آزمائشوں سے حاصل ہونے والا علم دل کی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے بچاؤ کے مؤثر طریقے اختیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صحت مند اور فعال زندگی گزارنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر سلمان غوری نے صحتِ عامہ کے فروغ کے لیے معاشرتی شمولیت اور غیر سرکاری تنظیموں کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیما مختلف خدمات کے ذریعے معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہری ایک دوسرے کی صحت کا خیال رکھنے کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ اور شعبۂ انسدادی امراضِ قلب کے سربراہ ڈاکٹر خاور کاظمی نے کہا کہ جسمانی کمیت کے اشاریے (بی ایم آئی)، بلڈ پریشر، کمر کے گھیر، کولیسٹرول اور خون میں گلوکوز کی سطح کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے، تاکہ افراد اپنی صحت کی صورتِ حال سے آگاہ رہیں اور ضرورت پڑنے پر بروقت طبی مشورہ حاصل کر سکیں۔
این آئی سی وی ڈی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر نے بچاؤ اور بروقت تشخیص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بروقت اقدامات سے امراضِ قلب کی پیچیدگیوں کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
طبا ہارٹ انسٹی ٹیوٹ کے بانی اراکین میں شامل پروفیسر ڈاکٹر بشیر حنیف نے کہا کہ جنوبی ایشیائی آبادیوں میں دل کی بیماریاں نسبتاً کم عمر میں بھی سامنے آ سکتی ہیں، اس لیے خطرات کو کم کرنے کے لیے ابتدائی عمر ہی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔