سندھ میں ریبیز کے 38 کیسز رپورٹ، انڈس اسپتال میں مزید ایک مریض انتقال کرگیا، جناح اسپتال 12 سالہ بچہ داخل

کراچی: سندھ میں ریبیز کے کیسز اور کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک صورتحال برقرار ہے۔ انڈس اسپتال کراچی میں ریبیز سے متاثرہ 38 سالہ مریض انتقال کرگیا، جبکہ جناح اسپتال میں بھی ریبیز کی مشتبہ علامات کے ساتھ 12 سالہ بچہ داخل کرلیا گیا ہے۔ رواں برس سندھ بھر میں ریبیز کے 38 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ جناح اسپتال میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

انڈس اسپتال کے ترجمان کے مطابق جاں بحق ہونے والے مریض نعمت اللہ کا تعلق ضلع تھرپارکر کی تحصیل ڈپلو کے علاقے نوہڑیو سے تھا۔ مریض کو تقریباً ڈھائی ماہ قبل کتے نے کاٹا تھا، جس کے بعد اسے ڈپلو کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں 25 جولائی سے 8 اگست 2026 کے دوران ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی چار خوراکیں دی گئیں۔

ترجمان کے مطابق نعمت اللہ کو 7 اکتوبر کو ریبیز کی علامات ظاہر ہونے پر انڈس اسپتال کراچی منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔ اسپتال حکام نے ابتدائی طبی امداد کے دوران زخم کی مناسب صفائی نہ کیے جانے کی نشاندہی بھی کی ہے۔

انڈس اسپتال کے مطابق رواں برس جنوری سے اب تک کتے کے کاٹنے کے 15 ہزار سے زائد مریض اسپتال لائے جاچکے ہیں، جبکہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال انڈس اسپتال میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد 29 ہوگئی ہے۔

دوسری جانب جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ بچہ ریبیز کی مشتبہ علامات کے ساتھ لایا گیا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق بچے کو تقریباً دو ماہ قبل کتے نے ہاتھ اور سینے پر کاٹا تھا، تاہم واقعے کے بعد اسے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائی گئی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے میں پانی سے خوف، بے چینی اور دوروں کی علامات ظاہر ہونے پر نیورو میڈیسن ٹیم کو طلب کیا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بچے میں ریبیز اینسیفلائٹس کا شبہ ظاہر کیا گیا، جس پر اسے مزید علاج کے لیے داخل کرلیا گیا۔ ایمرجنسی میں بچے کو اینٹی ریبیز ویکسین کی پہلی خوراک بھی دے دی گئی ہے۔

جناح اسپتال میں اس سے قبل بھی 8 ریبیز کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ تازہ صورتحال کے مطابق اسپتال میں رواں برس رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔

صوبے میں کتے کے کاٹنے کے واقعات کی مجموعی تعداد بھی ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ بھر میں رواں برس ریبیز کے 38 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جبکہ کراچی میں کتے کے کاٹنے کے 40 ہزار سے زائد اور سندھ بھر میں 2 لاکھ سے زیادہ واقعات رپورٹ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق کتے یا کسی دوسرے مشتبہ جانور کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا، بلا تاخیر طبی مرکز سے رجوع کرنا اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ویکسین اور دیگر ضروری حفاظتی علاج مکمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری عموماً جان لیوا ثابت ہوتی ہے، اس لیے علاج میں تاخیر خطرناک ہوسکتی ہے۔

کتے کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات اور ریبیز سے ہونے والی اموات نے آوارہ کتوں کی روک تھام، بروقت طبی امداد، ویکسین کی دستیابی اور زخموں کی مناسب صفائی کے انتظامات کو مؤثر بنانے کی ضرورت مزید اجاگر کردی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں