سی ایم ایچ حکام کا پمز اسپتال کا دورہ، مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا

اسلام آباد: پمز نرسری میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد اسپتال کی صورتحال بہتر بنانے کی کوششوں کے تحت سی ایم ایچ کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ٹیم نے پیر کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا دورہ کرکے انتظامی امور، طبی سہولیات اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔

وزارت صحت کے حکام کے مطابق سی ایم ایچ ٹیم کے دورے کا مقصد پمز کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر اسپتال کے انتظامی معاملات اور طبی سہولیات میں بہتری کے لیے تجاویز دینا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت صحت پمز کی حالت بہتر بنانے کے لیے مختلف اداروں سے معاونت اور ماہرانہ رائے حاصل کر رہی ہے تاکہ اسپتال میں انتظامی خامیوں کو دور کرکے مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات بہتر بنائی جاسکیں۔

یہ پیش رفت پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آتشزدگی کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے اور اسپتال کے فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور انتظامی نظام میں سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔

وزارت صحت کے حکام کے مطابق حکومت صرف سانحے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے پمز کے انتظامی اور گورننس نظام میں بنیادی اصلاحات کے مختلف آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔

ان تجاویز میں پمز کے لیے ایک آزاد اور بااختیار بورڈ آف گورنرز کا قیام بھی شامل ہے، جو اسپتال کے انتظامی معاملات کی نگرانی اور ادارے میں جوابدہی کا مؤثر نظام قائم کرسکے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پمز کے موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی اور آزاد بورڈ آف گورنرز کے قیام کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی یا موجودہ قانونی فریم ورک میں ضروری ترامیم کرنا ہوں گی۔

حکام کے مطابق مختلف انتظامی ماڈلز پر مشاورت جاری ہے جبکہ بڑے طبی اداروں کو چلانے کا تجربہ رکھنے والے اداروں سے بھی تجاویز حاصل کی جارہی ہیں۔

پمز نرسری سانحے کے بعد اسپتال کے انتظامی، حفاظتی اور گورننس نظام پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں وفاقی حکومت فوری اقدامات کے ساتھ طویل المدتی اصلاحات پر بھی غور کر رہی ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں