اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر سمیت آٹھ افسران کو فوری طور پر معطل کرتے ہوئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ فیصلے پمز کے میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد کیے گئے، جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کی نشاندہی پر معطل کیے جانے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری قوانین کے تحت بھی کارروائی کی منظوری دی گئی۔
معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، شعبہ نوزائیدہ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر عبدالرؤف شامل ہیں۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے اور معطل افسران کے باعث خالی ہونے والی اسامیوں پر فوری تقرریوں کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ عبوری تحقیقات میں پمز میں فائر سیفٹی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری، نگرانی اور انتظامی امور میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
بریفنگ کے مطابق پمز میں آتشزدگی یا کسی بڑے ہنگامی واقعے سے نمٹنے کے لیے جامع معیاری طریقہ کار اور عملے کی تربیت کا انتظام موجود نہیں تھا۔ ہسپتال کے 13 ایس او پیز میں آگ یا ہنگامی صورتحال کا ذکر صرف دو ذیلی شقوں میں کیا گیا تھا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اجلاس میں واقعے کی تقریباً دو منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھائی، جس میں نرسری وارڈ کو آگ کی لپیٹ میں آنے کا منظر دیکھا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ آگ تقریباً دو منٹ میں پورے وارڈ میں پھیل گئی۔ وارڈ میں فائر الارم یا اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا، جبکہ نوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں عالمی ادارۂ صحت کے متعلقہ تقاضوں کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ واقعے کے وقت نگران عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا، جبکہ وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سیکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔
ایک نرس نے آگ پھیلنے سے پہلے جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود بچے کو بچا لیا تھا، جس پر وزیراعظم نے اس نرس کے لیے ستارۂ خدمت کی منظوری دی۔
تاہم وزیراعظم نے وارڈ میں موجود دوسری نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو مزید تحقیقات تک او ایس ڈی بنانے کی ہدایت کی۔
تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے چھ منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دی گئی، جبکہ اطلاع ملنے کے 15 منٹ بعد پہلی امدادی ٹیم ہسپتال پہنچی۔
کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اس کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی انتظامات بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پمز میں آگ یا دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مستقل ذمہ دار افسر موجود نہیں تھا اور یہ ذمہ داری اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو اضافی چارج کے طور پر دی گئی تھی۔
وزیراعظم نے وزارت قومی صحت کو عبوری رپورٹ فوری طور پر عوام کے لیے جاری کرنے اور اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کو باقی تحقیقات مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔