پمز سانحہ: تحقیقاتی کمیٹی آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہ کرسکی، سنگین غفلتوں کی نشاندہی

اسلام آباد: پمز نرسری میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی اپنی عبوری رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی وجہ اور مقام کا تعین نہیں کرسکی، تاہم ہسپتال کے اندرونی بجلی کے نظام یا کسی برقی و طبی آلے میں خرابی کو ممکنہ وجہ قرار دیتے ہوئے طبی، انتظامی، فائر سیفٹی اور سکیورٹی کی سنگین غفلتوں کی نشاندہی کی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات پر وزیراعظم شہباز شریف نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت آٹھ افسران کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے۔

کمیٹی کے مطابق دستیاب شواہد سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوسکا کہ آگ انکیوبیٹر، وارمر، ایئرکنڈیشنر، پلگ، ساکٹ، وائرنگ یا کسی دوسرے آلے سے شروع ہوئی۔ آئیسکو کے ریکارڈ میں بھی کسی بیرونی فیڈر فالٹ یا ٹرپنگ کا ثبوت نہیں ملا، جس کے باعث تحقیقات کا رخ پمز کے اندرونی بجلی کے نظام اور اس سے منسلک آلات کی جانب ہے۔

رپورٹ کے مطابق 26 اگست کی صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر سی سی ٹی وی فوٹیج میں آگ پہلی مرتبہ نظر آئی اور تقریباً دو منٹ کے اندر نرسری کا بڑا حصہ دھویں کی لپیٹ میں آگیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی طور پر فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں، انخلا کی منصوبہ بندی، ایمرجنسی اطلاع رسانی، آگ بجھانے کی تیاری، سکیورٹی رابطہ کاری اور متعلقہ ذمہ داریوں پر عملدرآمد میں سنگین ناکامیوں کی نشاندہی کی۔

عبوری رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیونیٹل یونٹ میں ڈیوٹی روسٹر میں درج تعداد کے مقابلے میں کم عملہ موجود تھا، جبکہ پمز انتظامیہ نے سانحے سے تقریباً سات ہفتے قبل فیمیل نرسنگ ہاسٹل میں لگنے والی آگ کے بعد سامنے آنے والی فائر سیفٹی خامیوں پر بھی مؤثر کارروائی نہیں کی۔

اس واقعے کی تحقیقات میں اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم سسٹم، ہنگامی انخلا کی تیاری، بجلی کے نظام کے معائنے، فائر سیفٹی ریکارڈ اور سکیورٹی ردعمل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم ان پر عملدرآمد کا عمل نرسری سانحے سے قبل تسلی بخش طور پر مکمل نہیں کیا گیا۔

کیپٹل ایمرجنسی سروس کے مطابق بعض ہنگامی اخراج اور فرار کے راستے مقفل یا رکاوٹوں کا شکار تھے اور فائر فائٹرز کو بعض فائر ایگزٹ دروازے زبردستی کھولنا پڑے۔ کمیٹی ان دروازوں کی صورتحال کی تصدیق کررہی ہے جس کے بعد انفرادی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے آگ کی اطلاع دینے میں ممکنہ تاخیر کی بھی نشاندہی کی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں آگ صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر دکھائی دی جبکہ کیپٹل ایمرجنسی سروس کو پہلی ایمرجنسی کال 6 بج کر 54 منٹ پر موصول ہوئی، جس سے تقریباً 16 منٹ کا فرق سامنے آتا ہے۔

کمیٹی کے مطابق کسی پر اس ممکنہ تاخیر کی ذمہ داری عائد کرنے سے پہلے فون ریکارڈ، کنٹرول روم لاگز اور کال ریکارڈنگز کا جائزہ لیا جائے گا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فرنٹ لائن عملے نے بچوں کو بچانے کی کوشش کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج اس عمومی تاثر کی تائید نہیں کرتی کہ ڈاکٹروں، نرسوں یا سکیورٹی اہلکاروں نے نومولود بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔ اسٹاف نرس رضیہ نے واحد زندہ بچ جانے والے نومولود کو نکالا اور دیگر بچوں کو بچانے کیلئے دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔

تحقیقاتی کمیٹی نے پمز میں فوری فائر، لائف سیفٹی اور الیکٹریکل آڈٹ کی سفارش کرتے ہوئے نرسریوں، آئی سی یوز اور آپریشن تھیٹرز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔

کمیٹی کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ اور حتمی ذمہ داری کا تعین فرانزک اور تکنیکی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں