کراچی: ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخم کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگ کٹنے کے بعد مریضوں میں شرح اموات بیشتر کینسرز سے بھی زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں ایسے تقریباً 50 فیصد مریض تین سال اور 70 فیصد پانچ سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں۔
انٹرنیشنل کانفرنس آن ڈائبیٹیز اینڈ ڈائبیٹک فٹ میں اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخم بذات خود ایک جان لیوا پیچیدگی ہیں اور ایسے مریضوں میں پانچ سال کے اندر شرح اموات تقریباً 30 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
معروف اینڈوویسکیولر ماہر ڈاکٹر فہد طارق نے
میں مختلف بیماریوں کی پانچ سالہ شرح اموات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخم کے مریضوں میں پانچ سالہ شرح اموات بریسٹ کینسر سمیت بعض کینسرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ان کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاؤں یا ٹانگ کا معمولی حصہ کاٹنے (minor amputation) کے بعد پانچ سال میں شرح اموات 40 فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے، جبکہ بڑی سطح پر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے (major amputation) کے بعد نصف سے زیادہ مریض پانچ سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ اس بلند شرح اموات کی وجہ صرف پاؤں کا زخم یا انفیکشن نہیں بلکہ ایسے مریضوں میں پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز (PAD)، امراض قلب اور خون کی شریانوں کی دیگر سنگین بیماریاں بھی ہوتی ہیں، جو ہارٹ اٹیک، فالج اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔
بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی (BIDE) کے پروفیسر زاہد میاں نے بتایا کہ پاکستان میں ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے باعث سالانہ تقریباً تین لاکھ افراد کے پاؤں یا ٹانگیں کاٹنی پڑتی ہیں، یعنی ملک میں اوسطاً ہر گھنٹے 34 افراد ذیابیطس کے باعث اپنے پاؤں یا ٹانگ سے محروم ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخم کے نتیجے میں پاؤں یا ٹانگ کا کٹ جانا محض معذوری کا مسئلہ نہیں بلکہ مریض کی زندگی کے لیے بھی سنگین خطرے کی علامت ہے۔ پاکستان میں پاؤں یا ٹانگیں گنوانے والے تقریباً نصف مریض تین سال جبکہ 70 فیصد پانچ سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں۔
کانفرنس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 20 سے 79 سال کی عمر کے افراد میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد ہے، جبکہ ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخموں کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔
پاکستان میں ذیابیطس کے 43.2 فیصد مریض اعصابی پیچیدگی ڈائبیٹک پیریفرل نیوروپیتھی کا شکار ہیں۔ نئے تشخیص ہونے والے مریضوں میں بھی اس کی شرح 26.5 فیصد ہے، جبکہ پانچ سال سے زائد عرصے سے ذیابیطس میں مبتلا افراد میں یہ شرح بڑھ کر 56.8 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ پیریفرل نیوروپیتھی کے باعث پاؤں کی حس کم یا ختم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو چوٹ، چھالے یا زخم کا بروقت احساس نہیں ہوتا۔ اگر ایسے مریض کو پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز بھی لاحق ہو تو خون کی ناکافی فراہمی کے باعث زخم مندمل نہیں ہوتا اور انفیکشن، گینگرین اور بالآخر پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت آسکتی ہے۔
پروفیسر زاہد میاں کے مطابق پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں کا شکار ہیں اور بروقت تشخیص، پاؤں کی باقاعدہ دیکھ بھال، انفیکشن کے فوری علاج اور خون کی شریانوں میں روانی بحال کرکے بڑی تعداد میں مریضوں کو پاؤں یا ٹانگیں کٹنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
کانفرنس کے پلینری سیشن میں پروفیسر نجمل اسلام، پروفیسر جاوید اکرم، پروفیسر جمیل احمد، پروفیسر ایرک سینی ویل اور پروفیسر بیکھا رام سمیت ممتاز ماہرین نے شرکت کی، جبکہ پیریفرل نرو ڈس آرڈرز کے سیشن میں ڈاکٹر سائمہ عسکری، ڈاکٹر سہیل چغتائی، ڈاکٹر صومیہ اقتدار، پروفیسر افتخار علی شاہ، ڈاکٹر زاہد علی فہیم اور پروفیسر بشیر اے سومرو سمیت دیگر ماہرین شریک ہوئے۔
ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں میں خون کی شریانوں کے علاج سے متعلق خصوصی سیشن میں پروفیسر کمال یوسف، پروفیسر عبدالرشید، ڈاکٹر نعمان القمری، ڈاکٹر وریام صالح، ڈاکٹر عمار پیرزادہ، ڈاکٹر فہد میمن اور ڈاکٹر رضوان خان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر فہد طارق نے اسی سیشن میں جدید اینڈوواسکولر طریقوں سے متاثرہ پاؤں اور ٹانگوں کو کٹنے سے بچانے پر اپنی پریزنٹیشن دی۔
بین الاقوامی ماہر پروفیسر ذوالفقار جی عباس نے کہا کہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد ذیابیطس کے مریض کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں، جہاں بیماری اور اس کی پیچیدگیوں کا بوجھ دستیاب وسائل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 سال قبل عالمی سطح پر خبردار کیا گیا تھا کہ ذیابیطس کے باعث ہر 30 سیکنڈ میں ایک پاؤں ضائع ہورہا ہے لیکن طبی سائنس میں نمایاں پیش رفت کے باوجود ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخم اب بھی دنیا، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا طبی مسئلہ ہیں۔
کانفرنس میں پروفیسر فرانسس گیم، پروفیسر روبرٹو اینی چینی، پروفیسر ضیاء الرحمان، پروفیسر ایرک سینی ویل، ڈاکٹر سلمیٰ خریبط اور دیگر ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے بھی ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں، نیوروپیتھی، پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز، انفیکشن، زخموں کے علاج اور پاؤں یا ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے جدید طریقوں پر اظہار خیال کیا۔
پروفیسر زاہد میاں نے ذیابیطس کے باعث پاؤں کے زخموں میں مبتلا مریضوں کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن 03306666774 شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاؤں میں زخم، السر یا انفیکشن کی صورت میں مریض فوری طبی رہنمائی حاصل کرسکیں گے تاکہ تاخیر کے باعث پاؤں یا ٹانگ کاٹنے کی نوبت نہ آئے۔
انہوں نے ذیابیطس کے باعث ہونے والے پاؤں کے زخموں کی روک تھام اور علاج کے لیے ملک کا پہلا دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کا پہلا بیچ جنوری 2027 میں شروع ہوگا۔ پروگرام کا مقصد ایسے تربیت یافتہ طبی ماہرین تیار کرنا ہے جو بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے مریضوں کے پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچانے میں کردار ادا کرسکیں۔
پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے بانی صدر پروفیسر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان کو ذیابیطس کے علاج کے ساتھ اس کی پیچیدگیوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینا ہوگی کیونکہ بے قابو ذیابیطس امراض قلب، گردوں کی ناکامی، نابینا پن، ہارٹ اٹیک، فالج اور پاؤں یا ٹانگیں کٹنے سمیت متعدد جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن رہی ہے۔
کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد سیف الحق نے کہا کہ ذیابیطس کے مریض کے پاؤں پر بظاہر معمولی زخم بھی بروقت علاج نہ ہونے پر شدید انفیکشن اور گینگرین میں تبدیل ہوسکتا ہے، اس لیے مریضوں کی آگاہی، بروقت علاج اور مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل مشترکہ نظام کے ذریعے ہزاروں پاؤں اور زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔