اسلام آباد: کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے افسوسناک واقعے اور رواں سال کوہاٹ میں ایک خاتون ڈاکٹر کے قتل پر ملک بھر میں تشویش کی لہر کے دوران پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کی ایک سینئر خاتون ڈاکٹر نے بھی ہراسگی، بدزبانی اور دھمکی آمیز رویے کی شکایت درج کرا دی ہے، جس کے بعد صحت کے اداروں میں خواتین طبی عملے کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
پمز کی ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈاکٹر زوفشاں جبین فاطمہ نے اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو تحریری درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں 8 جون کو اپنے دفتر میں ایک ملازم قمر گجر کی جانب سے ہراساں کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ان کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا۔
وائٹلز نیوز کو موصول ہونے والی شکایت کے مطابق یہ واقعہ دوپہر تقریباً ایک بج کر 45 منٹ پر پیش آیا جب قمر گجر اپنے ایک ساتھی ساجد غفور کے ہمراہ بغیر پیشگی اجازت یا ملاقات کے وقت کے ڈاکٹر زوفشاں کے دفتر میں داخل ہوا۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ دفتر میں داخل ہوتے ہی قمر گجر نے ایک سابقہ معاملے پر انتہائی جارحانہ انداز میں بحث شروع کر دی اور تقریباً ایک گھنٹے تک بلند آواز میں جھگڑا کرتا رہا، چیختا چلاتا رہا اور دھمکی آمیز زبان استعمال کرتا رہا۔
ڈاکٹر زوفشاں کے مطابق مذکورہ شخص کا رویہ غیر پیشہ ورانہ، خوفزدہ کرنے والا اور ان کی سرکاری حیثیت اور ذاتی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے مترادف تھا۔
انہوں نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب دفتر کے باہر موجود عملے نے شور شرابہ سن کر مداخلت کی اور متعلقہ شخص کو دفتر سے باہر نکالا، تاہم وہ راہداری میں بھی مبینہ طور پر بدزبانی اور دھمکی آمیز گفتگو کرتا رہا۔
ڈاکٹر زوفشاں نے اس واقعے کو دفتری ہراسگی اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے کام کا ماحول غیر محفوظ اور معاندانہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملہ فوری طور پر ہراسگی کمیٹی کے سپرد کیا جائے، باقاعدہ انکوائری شروع کی جائے اور متعلقہ شخص کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے یہ بھی درخواست کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ان کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔
پمز کے حکام نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملے کا ادارہ جاتی قواعد و ضوابط کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم خبر فائل کیے جانے تک قمر گجر کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں خواتین ڈاکٹروں اور طبی عملے کی حفاظت کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ چند روز قبل کوئٹہ کے سینڈمین صوبائی اسپتال میں جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر مبینہ طور پر ایک کنٹریکٹ لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ جھلس گئیں اور اس وقت کراچی میں زیر علاج ہیں۔
اس سے قبل رواں سال کوہاٹ میں بھی ایک خاتون ڈاکٹر کے قتل کے واقعے نے طبی برادری کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے بعد ڈاکٹروں کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے صحت کے اداروں میں سکیورٹی اور خواتین کے محفوظ کام کے ماحول سے متعلق سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ہراسگی، دھونس، دھمکیوں اور بعض اوقات جسمانی تشدد کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ رہے ہیں جبکہ متعدد متاثرین پیشہ ورانہ یا سماجی دباؤ کے باعث شکایات درج کرانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز میں پیش آنے والے اس واقعے سمیت تمام شکایات کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور خواتین ڈاکٹروں سمیت تمام طبی عملے کے لیے محفوظ اور باوقار کام کا ماحول یقینی بنایا جائے-