کراچی: کوئٹہ میں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی نوجوان خاتون ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی متاثرہ آنکھ ایک آنکھ متاثر ہوئی ہے جس میں کارنیل السر یا زخم آیا ہے، تاہم بروقت طبی امداد کے باعث ان کی دونوں آنکھیں محفوظ ہیں –
آریا اسپتال کوئٹہ کے ڈاکٹرز نے وائٹلز نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو سول اسپتال سے آریا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پلاسٹک سرجنز، ماہرین امراض چشم اور ایمرجنسی سروسز پر مشتمل ٹیم نے ان کا فوری علاج شروع کیا۔
انہوں نے بتایا کہ تیزاب حملے کے نتیجے میں ڈاکٹر ماہ نور کے جسم کا تقریباً 13 سے 15 فیصد حصہ جھلس گیا تھا جبکہ ایک آنکھ بھی متاثر ہوئی، تاہم دوسری آنکھ مکمل طور پر محفوظ رہی۔
ڈاکٹرز کے مطابق تیزاب گردی کے متاثرین کے لیے ابتدائی 30 منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ اسی دوران تیزاب کو جسم سے صاف کرنا اور متاثرہ حصوں کی فوری دھلائی کرنا سب سے ضروری مرحلہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آریا اسپتال کی ٹیم نے فوری طور پر تمام ضروری اقدامات کیے، جس کے باعث مریضہ کی حالت مستحکم ہوئی اور انہیں مزید پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے میں مدد ملی۔
ان کے مطابق متاثرہ آنکھ کے قرنیے کو جزوی نقصان پہنچا ہے جسے قرنیے کا زخم یا کارنیل السر قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زخم بھرنے کے بعد قرنیے میں ہلکا دھندلا پن یا کارنیل اوپیسیٹی پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق بعض کیسز میں پیچیدگی کے نتیجے میں قرنیہ کی پیوند کاری کی ضرورت پڑتی ہے، اگر مستقبل میں قرنیے میں نمایاں دھندلا پن پیدا ہوتا ہے تو بینائی بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر ماہ نور کو قرنیہ ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، تاہم اس وقت دونوں آنکھیں محفوظ ہیں اور صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
ڈاکٹرز نے بتایا کہ آریا اسپتال میں پلاسٹک سرجری، امراض چشم اور دیگر ضروری طبی سہولیات موجود تھیں اور ڈاکٹر ماہ نور کا مکمل علاج کوئٹہ میں بھی ممکن تھا، تاہم ان کے اہل خانہ نے مزید علاج کے لیے انہیں کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹرز نے بتایا کہ مریضہ کو کراچی منتقل کیے جانے سے قبل جان بچانے اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے درکار تمام بنیادی اور اہم طبی اقدامات آریا اسپتال میں مکمل کر لیے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے معالجین نے بھی ابتدائی طبی امداد کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ بروقت علاج سے مریضہ کو سنگین پیچیدگیوں سے بچانے میں مدد ملی۔
ڈاکٹرز کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور تقریباً تین گھنٹے آریا اسپتال میں زیر علاج رہیں، جہاں پلاسٹک سرجری، امراض چشم اور ایمرجنسی سروسز کی ٹیم مسلسل ان کی دیکھ بھال کرتی رہی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان میں معیاری طبی سہولیات اور قابل ماہرین موجود ہیں اور جہاں صوبے کے مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے وہاں صحت کے شعبے میں ایسی مثبت مثالوں کو بھی سامنے لایا جانا چاہیے-