اسلام آباد: اس وقت سوشل میڈیا پر آنکھوں میں ڈالنے والی ایک دوا کے قطروں یا آئی ڈراپس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کے استعمال سے قریب کی نظر بہتر ہو سکتی ہے اور ریڈنگ گلاسز استعمال کرنے والے افراد کو چشمے سے نجات مل سکتی ہے۔
مگر کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟
سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اس دوا یا آئی ڈراپس کے بارے میں کیا دعوے کیے جا رہے ہیں۔
خبروں کے مطابق امریکہ میں Vuity اور Qlosi نامی آئی ڈراپس کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ان قطروں کے استعمال سے پریسبائیوپیا (Presbyopia) یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ قریب کی نظر کمزور ہونے کے مسئلے کا شکار افراد کو قریب کی اشیا زیادہ واضح نظر آ سکتی ہیں اور انہیں ریڈنگ گلاسز کے بغیر پڑھنے میں سہولت مل سکتی ہے۔
ہم نے اس سلسلے میں ماہرین سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ جس دوا کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ دراصل کوئی نئی دوا نہیں بلکہ پائلوکارپین (Pilocarpine) نامی دوا ہے، جو گلوکوما کے علاج کے لیے کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پائلوکارپین کی کم طاقت والے آئی ڈراپس کے بارے میں حالیہ برسوں میں یہ معلوم ہوا ہے کہ اگر انہیں ایسے افراد استعمال کریں جو پریسبائیوپیا یعنی عمر کے ساتھ قریب کی نظر کمزور ہونے کے مسئلے کا شکار ہوں تو انہیں محض چند گھنٹوں کے لیے ریڈنگ گلاسز کے بغیر پڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آنکھوں کی بیماریوں کی ادویات بنانے والی معروف پاکستانی کمپنی سانتے فارماسیوٹیکلز کے مینیجنگ ڈائریکٹر توقیر الحق کے مطابق پائلوکارپین عرصہ دراز سے گلوکوما کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے، تاہم اب اس کا ایک نیا استعمال بھی سامنے آیا ہے۔ ان کے بقول اگر اس دوا کو کم طاقت والے قطروں کی صورت میں ایسے افراد استعمال کریں جنہیں قریب کی نظر کی کمزوری کا سامنا ہو تو انہیں “چند گھنٹوں” کے لیے ریڈنگ گلاسز کے بغیر پڑھنے میں سہولت مل سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائلوکارپین کے کم طاقت والے قطرے آنکھ کی پتلی کو عارضی طور پر سکیڑ دیتے ہیں، جس سے ایک طرح کا “پن ہول ایفیکٹ” پیدا ہوتا ہے اور قریب کی اشیا نسبتاً زیادہ واضح دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اس طرح کتاب، اخبار پڑھنا اور موبائل فون استعمال کرنا چند گھنٹوں کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
توقیر الحق کے مطابق یہ کوئی مستقل علاج نہیں بلکہ ایک عارضی سہولت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان قطروں کا اثر صرف چند گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ اس دوا کے استعمال سے قریب کی نظر مستقل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے یا ریڈنگ گلاسز سے ہمیشہ کے لیے نجات مل جاتی ہے۔
ماہرینِ امراض چشم کا کہنا ہے کہ پریسبائیوپیا دراصل عمر بڑھنے کے ساتھ آنکھ کے قدرتی عدسے کی لچک کم ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں قریب کی اشیا پر فوکس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق ریڈنگ گلاسز یا مناسب نمبر کا چشمہ اب بھی اس مسئلے کا سب سے مؤثر، محفوظ اور مستقل حل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پائلوکارپین کے قطرے محدود وقت کے لیے ریڈنگ گلاسز کی ضرورت کم کر سکتے ہیں، تاہم یہ مستقل علاج نہیں ہیں۔
مزید برآں ان کے بعض مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں، جن میں سر درد، آنکھوں میں لالی، بھنوؤں اور آنکھوں کے گرد درد، دور کی نظر میں دھندلا پن اور کم روشنی میں دیکھنے میں دشواری شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ قطرے ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہوتے اور بعض افراد خصوصاً ریٹینا کے امراض، موتیے یا دیگر آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ان کے استعمال سے قبل ماہرِ چشم سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔
سانتے فارماسیوٹیکلز کے مینیجنگ ڈائریکٹر توقیر الحق کا کہنا تھا کہ پریسبائیوپیا کے لیے پائلوکارپین پر مبنی مخصوص آئی ڈراپس فی الحال پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ میں اس مقصد کے لیے بعض قطرے منظوری حاصل کر چکے ہیں اور اگر انہیں پاکستان میں رجسٹرڈ کیا جاتا ہے تو کمپنی ان کی دستیابی کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چالیس سال سے زائد عمر کے بیشتر افراد کسی نہ کسی حد تک پریسبائیوپیا کا شکار ہوتے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر کیے جانے والے اس دعوے کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا کہ چند قطرے ڈالنے سے قریب کی نظر مستقل طور پر ٹھیک ہو جاتی ہے یا ریڈنگ گلاسز سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔