سندھ میں مریضوں کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف، رازداری کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم متعارف

کراچی: وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے مریضوں کے ذاتی طبی ڈیٹا کے افشا ہونے اور رازداری کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریضوں کی معلومات کا تحفظ صحت کے نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے، اس ضمن میں مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے جبکہ ڈیٹا لیک ہونے کے واقعات پر فوری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ نے کہا کہ محکمہ صحت میں جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت سندھ بھر کے اسپتالوں میں مریضوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل اور منظم کیا جائے گا۔ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز (ای ایم آر) سمیت مختلف ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر اقدامات کے ذریعے صوبے کے طبی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ مریضوں کی ذاتی معلومات کا افشا ہونا تشویش ناک معاملہ ہے، اس لیے طبی ریکارڈ اور مریضوں کی رازداری کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ معلومات کی حفاظت کے لیے بھی مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل ڈیٹا کا مؤثر استعمال بیماریوں، علاج کے نتائج اور مریضوں کے علاج کے ردعمل کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل میں صحت سے متعلق بہتر پالیسیاں مرتب کی جا سکیں گی اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔

وزیر صحت کے مطابق مختلف ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹمز (ایچ ایم آئی ایس)، پورٹل ٹریکنگ سسٹم، ڈی ایچ آئی ایس ٹو اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈز کے ڈیٹا کو باہم منسلک کرنے سے صحت کی خدمات کی نگرانی اور کارکردگی کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظاموں کے انضمام سے طبی خدمات کی فراہمی، آپریشنل اخراجات اور لاجسٹکس کے نظام میں شفافیت یقینی بنانے کے امکانات بڑھیں گے۔ کوٹا ٹریکنگ سسٹم سمیت مختلف نظاموں کے ذریعے متعلقہ معلومات کی نگرانی اور جانچ بھی مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام منصوبوں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں