کراچی: ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی پرنسپل ڈاکٹر عظمیٰ بخاری اور ماہرینِ امراضِ چشم نے کہا ہے کہ پاکستان میں 4 لاکھ 85 ہزار افراد نابینا ہیں، جبکہ 90 لاکھ افراد بصارت کی کمزوری کے باعث چشمہ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ موتیا بند نابینائی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم گلوکوما (کالا موتیا) بھی بینائی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے والی خطرناک بیماری ہے، جسے بروقت تشخیص اور علاج کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ افراد نابینا اور 28 کروڑ 50 لاکھ افراد بصارت کی مختلف کمزوریوں کا شکار ہیں، جبکہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 8 کروڑ افراد گلوکوما میں مبتلا ہیں۔
یہ باتیں عالمی یومِ بصارت کے سلسلے میں منعقدہ آگاہی واک اور سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی گئیں۔ سیمینار سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹیز اینڈ اینڈوکرائنولوجی (نائیڈ) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مسرت ریاض، ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال کی ڈائریکٹر پروفیسر زیبا احمد اور پروفیسر نثار احمد سیال سمیت دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔
آگاہی واک کی قیادت ڈاکٹر عظمیٰ بخاری نے کی۔ واک کا آغاز ٹراما سینٹر سے ہوا اور اختتام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹیز اینڈ اینڈوکرائنولوجی (نائیڈ) پر ہوا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ گلوکوما کی ابتدائی علامات اکثر ظاہر نہیں ہوتیں، جس کے باعث مریض کو درد یا کسی واضح تکلیف کے بغیر بینائی متاثر ہونے کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے۔ اس لیے بالخصوص 40 سال سے زائد عمر کے افراد، ذیابیطس کے مریضوں اور ایسے افراد جن کے خاندان میں گلوکوما کی تاریخ موجود ہو، ان کے لیے آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ انتہائی ضروری ہے۔
ڈاکٹر مسرت ریاض نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹیز اینڈ اینڈوکرائنولوجی (نائیڈ) میں آنے والے ذیابیطس کے مریضوں کی آنکھوں کے معائنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور انہیں اس حوالے سے تاکید بھی کی جاتی ہے، کیونکہ شوگر کے مریضوں میں بصارت سے محرومی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلوکوما، جسے کالا موتیا بھی کہا جاتا ہے، ذیابیطس اور آنکھ کے اندرونی دباؤ میں اضافے سے منسلک ہو سکتا ہے اور بینائی سے محرومی کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
پروفیسر نثار احمد سیال نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 49 فیصد کیسز میں بینائی سے محرومی کی بنیادی وجہ موتیا بند (Cataract) ہے، جبکہ باقی 51 فیصد کیسز میں گلوکوما، ذیابیطس سے متعلق ریٹینوپیتھی (Diabetic Retinopathy) اور میکیولر ڈی جنریشن (Macular Degeneration) سمیت دیگر وجوہات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد کے باوجود لوگ باقاعدگی سے آنکھوں کے پردے کا معائنہ نہیں کراتے۔ 40 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے آنکھوں کا باقاعدہ معائنہ نہایت اہم ہے تاکہ بینائی کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔