اسلام آباد: پاکستان میں جنوری 2025 سے جون 2026 تک 18 ماہ کے دوران 3 ہزار 900 بچوں میں ایچ آئی وی کے نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جس کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً سات سے زائد بچے ایچ آئی وی کے مریضوں کے طور پر رجسٹر ہوئے۔ سب سے زیادہ کیسز سندھ اور پنجاب میں سامنے آئے، جہاں مجموعی طور پر 3 ہزار 680 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔
یہ انکشاف قومی اسمبلی میں ڈاکٹر شرمیلا فاروقی اور نزہت صادق کے سوالات کے جواب میں وزارت قومی صحت کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری اعدادوشمار میں کیا گیا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق جنوری 2025 سے جون 2026 کے دوران سندھ میں ایک ہزار 915 اور پنجاب میں ایک ہزار 765 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد انہیں رجسٹر کیا گیا۔
اسی عرصے میں خیبر پختونخوا میں 139، بلوچستان میں 46، اسلام آباد میں 30، آزاد کشمیر میں چار اور گلگت بلتستان میں ایک بچے کی ایچ آئی وی کے مریض کے طور پر رجسٹریشن ہوئی۔
طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی اہم وجوہات میں استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ انتقال خون، غیر جراثیم کش طبی اور جراحی آلات کا استعمال اور متاثرہ ماؤں سے بچوں میں وائرس کی منتقلی شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ ماں سے حمل، بچے کی پیدائش اور دودھ پلانے کے دوران بھی وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔ تاہم بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کا خطرہ نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ انجیکشن اور طبی آلات کے ذریعے ایچ آئی وی کی منتقلی کو روکنے کے لیے انفیکشن کنٹرول کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔ تاہم قومی اسمبلی میں فراہم کردہ اعدادوشمار میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ متاثرہ بچوں میں کتنے کیسز غیر محفوظ طبی طریقوں اور کتنے ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کے نتیجے میں سامنے آئے۔
وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تخمینی تعداد 4 لاکھ 17 ہزار 214 تک پہنچ چکی ہے، تاہم ان میں سے صرف 92 ہزار 148 افراد رجسٹرڈ ہیں جبکہ 67 ہزار 878 مریض اینٹی ریٹرووائرل علاج حاصل کر رہے ہیں۔
سرکاری جواب میں بتایا گیا کہ ملک میں ایچ آئی وی کے علاج کے مراکز کی تعداد بڑھ کر 113 ہوگئی ہے، جن میں رواں سال سندھ میں قائم کیے گئے مزید 15 مراکز بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کی جانچ کی سہولتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 میں 37 ہزار 944 افراد کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے گئے تھے جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 3 لاکھ 74 ہزار 126 ہوگئی۔
عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے سالانہ نئے انفیکشنز کی تخمینی تعداد 2010 میں تقریباً 16 ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر 48 ہزار تک پہنچ گئی، یعنی 14 سال کے دوران تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا۔
وزارت صحت نے تسلیم کیا کہ پاکستان مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں ایچ آئی وی کی تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا والے ممالک میں شامل ہے، تاہم عمومی آبادی میں اس وائرس کی شرح اب بھی 0.1 فیصد سے کم بتائی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق ایچ آئی وی کے مریضوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے قومی سطح پر ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کام کر رہا ہے، تاہم پنجاب کا الگ نظام ابھی قومی نظام کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔
وزارت صحت نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے آپریشن سے قبل مریضوں کی اسکریننگ، متاثرہ افراد کے رابطوں کی جانچ، ملک میں داخلے کے 14 مقامات پر اسکریننگ اور دوبارہ استعمال نہ ہونے والی سرنجوں کو مرحلہ وار متعارف کرانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کے مطابق 10 سی سی تک کی روایتی سرنجوں پر پابندی یکم جنوری 2027 سے نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔
ہیپاٹائٹس سے سالانہ 48 ہزار سے زائد اموات
قومی اسمبلی میں فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ 38 لاکھ 60 ہزار افراد ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں۔ ملک میں ہیپاٹائٹس سے متعلق بیماریوں کے باعث سالانہ 48 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔
وزارت صحت نے بتایا کہ 2024 میں ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے انفیکشنز سامنے آئے، جبکہ اس مرض کی روک تھام اور علاج کے لیے 67 ارب 77 کروڑ روپے کا وفاقی اور صوبائی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
اس پروگرام کے تحت جون 2027 تک 8 کروڑ 25 لاکھ افراد کی ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ اور تشخیص شدہ مریضوں کے علاج کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کو صحت عامہ کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔
پاکستان میں سوا تین کروڑ سے زائد افراد ذہنی امراض میں مبتلا
وزارت صحت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان میں ذہنی امراض سے متاثرہ افراد کی تخمینی تعداد 2019 میں تین کروڑ تھی جو 2023 میں بڑھ کر تین کروڑ 24 لاکھ ہوگئی۔
جنوری 2026 تک ملک بھر میں صرف ایک ہزار 50 رجسٹرڈ ماہرین امراض نفسیات موجود تھے، جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار افراد کے لیے صرف ایک ماہر امراض نفسیات دستیاب ہے۔
وزارت صحت کے مطابق کلینیکل سائیکالوجسٹس اور ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے دیگر تربیت یافتہ افراد کی مکمل تعداد دستیاب نہیں۔
ملک میں 40 فیصد سے زائد بچے پست قامتی کا شکار
وزارت صحت نے بتایا کہ 2018 کا قومی غذائی سروے اب بھی ملک میں غذائی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین سرکاری سروے ہے، جس کے مطابق 40 فیصد سے زائد بچے پست قامتی جبکہ 18 فیصد بچے جسمانی کمزوری اور شدید غذائی کمی کا شکار ہیں۔
اسی سروے کے مطابق تولیدی عمر کی 52 فیصد خواتین خون کی کمی میں مبتلا ہیں۔
مالی سال 2026-27 کے دوران ماں اور بچے کی غذائی ضروریات کے لیے وفاقی بجٹ سے متعلق سوال پر وزارت صحت نے پمز کے مریضوں کی خوراک کے لیے 13 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کیے جانے کی تفصیل فراہم کی، تاہم ماں اور بچے کی غذائی ضروریات اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے لیے مجموعی وفاقی مختص رقم نہیں بتائی گئی۔
ہیموفیلیا کے مریضوں کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں
وزارت صحت نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں ہیموفیلیا اور خون بہنے کی دیگر موروثی بیماریوں کے مریضوں کا مکمل قومی ریکارڈ دستیاب نہیں۔
قومی بلڈ پالیسی کے مطابق ملک میں خون بہنے کی مختلف بیماریوں سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 24 ہزار ہوسکتی ہے، جبکہ ورلڈ فیڈریشن آف ہیموفیلیا کے پاکستانی چیپٹر کے پاس 4 ہزار 700 مریض رجسٹرڈ ہیں، جن میں تین ہزار سے زائد ہیموفیلیا اے کے مریض شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق ہیموفیلیا کے مریضوں کی قومی رجسٹری اور علاج کے یکساں طریقہ کار کو 2027 کی دوسری سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم وفاقی سطح پر ہیموفیلیا کے علاج کے لیے کوئی الگ بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
ملک میں نجی اسپتالوں کی فیسوں کا یکساں نظام موجود نہیں
وزارت صحت نے بتایا کہ پاکستان میں نجی اسپتالوں اور طبی اداروں کی فیسوں کو منظم کرنے کے لیے کوئی یکساں قومی نظام موجود نہیں۔
اسلام آباد میں صحت کے نگران ادارے کو زائد فیسوں کی وصولی سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، جبکہ نومبر کے تیسرے ہفتے میں ہیلپ لائن 1166 کے ذریعے صحت سے متعلق شکایات کا نظام شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔
ایک الگ جواب میں وزارت صحت نے بتایا کہ فارمل ڈی ہائیڈ اور میتھانول پاکستان میں بطور دوا رجسٹرڈ نہیں اور ان کا بیماریوں کے علاج یا کھانے پینے کی اشیا میں استعمال منظور شدہ نہیں۔ ان کی خوراک کے ذریعے جسم میں منتقلی زہریلے اور جان لیوا اثرات پیدا کرسکتی ہے، تاہم حکومت کے پاس دکانداروں کی جانب سے ان کے استعمال کی تصدیق کرنے والا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں۔
پمز آتشزدگی میں 14 نومولود جاں بحق، فائر الارم سسٹم ناکافی قرار
قومی اسمبلی میں وزارت صحت نے 26 اگست 2026 کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اسلام آباد کی نرسری میں آتشزدگی کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
وزارت کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 نومولود موجود تھے جن میں سے صرف ایک کو ابتدائی طور پر زندہ بچایا جاسکا، جبکہ 14 بچے جاں بحق ہوگئے۔
سرکاری جواب کے مطابق آگ لگنے کے تقریباً 15 منٹ بعد امدادی اداروں کو اطلاع دی گئی اور ریسکیو ٹیمیں صبح 7 بج کر ایک منٹ پر موقع پر پہنچیں۔
وزارت صحت نے اعتراف کیا کہ پمز کا فائر الارم سسٹم ناکافی تھا۔ واقعے کے بعد آٹھ افسران کو معطل کیا گیا جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔
وزارت صحت کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں جھلسنے والے مریضوں کے علاج کے لیے صرف دو مخصوص مراکز موجود ہیں، جن میں پمز میں 20 اور نیسکام اسپتال میں 10 بستر دستیاب ہیں۔
بچوں کی معمول کی ویکسینیشن سے محرومی میں کمی
وزارت صحت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان میں معمول کی حفاظتی ویکسین کی پہلی خوراک سے محروم بچوں کی تخمینی تعداد میں کمی آئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اندازوں کے مطابق پینٹاویلنٹ ویکسین کی پہلی خوراک سے محروم بچوں کی تعداد 2021 میں 6 لاکھ 51 ہزار تھی جو 2024 میں کم ہوکر 3 لاکھ 96 ہزار رہ گئی۔
تاہم 2025 میں تیسرے فریق کے ایک سروے میں ایسے بچوں کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار سے کم بتائی گئی۔
وزارت صحت کے مطابق 2025 میں خصوصی ویکسینیشن مہمات کے ذریعے تقریباً 4 لاکھ 88 ہزار بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے، جبکہ 2026 میں اب تک ایک لاکھ 47 ہزار 709 بچوں کو ویکسین فراہم کی جاچکی ہے۔