کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں رواں برس ریبیز کا دسواں کیس رپورٹ ہوا ہے، جہاں بلدیہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے 70 سالہ شخص کو ریبیز کی علامات ظاہر ہونے پر تشویشناک حالت میں داخل کرلیا گیا۔
اسپتال حکام کے مطابق سید غلام رسول کو 14 اکتوبر 2026 کی رات تقریباً 2 بج کر 16 منٹ پر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ لایا گیا۔ مریض کو جسم میں شدید اکڑاؤ اور ہائیڈرو فوبیا، یعنی پانی سے خوف، کی علامات لاحق تھیں۔
اسپتال حکام کے مطابق مریض کو تقریباً 20 روز قبل بائیں ہاتھ اور پاؤں پر کتے نے کاٹا تھا، تاہم کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائی گئی تھی۔
اسپتال پہنچنے پر مریض کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ کیس سمری کے مطابق مریض کا گلاسگو کوما اسکیل (GCS) 15 میں سے 8 تھا، بلڈ پریشر 60/40 جبکہ کمرے کی عام ہوا میں آکسیجن کی سطح 84 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ طبی عملے نے مریض کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض کے معائنے کے لیے نیورو میڈیسن ٹیم کو بھی شامل کیا گیا، جس کے بعد ریبیز اینسیفلائٹس کے شبہے میں اسے ایف جی او وارڈ میں داخل کرلیا گیا۔
سندھ بھر میں مجموعی طور پر ریبیز کے کیسز کی تعداد 39 ہوگئی ہے، ریبیز کے جناح اسپتال میں دس اور انڈس اسپتال میں 29 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا اور بلا تاخیر اسپتال پہنچ کر اینٹی ریبیز ویکسین سمیت تجویز کردہ حفاظتی علاج حاصل کرنا ضروری ہے۔ ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کے بعد بیماری عموماً جان لیوا ثابت ہوتی ہے، اس لیے ویکسین لگوانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔