کم عمری میں ہارٹ اٹیک کیوں؟ پاکستان میں ماہرین نے پہلی طویل المدتی ریسرچ کا آغاز

آغاخان اسپتال کے ماہرین نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے دل کے دوروں کی وجوہات جاننے کے لیے ملک کی پہلی طویل المدتی تحقیق شروع کردی۔ “لائف کارڈ اسٹڈی” نامی اس ریسرچ میں کراچی، مٹیاری اور سندھ کے دیہی علاقوں سے چار ہزار بچوں اور نوجوانوں کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ کم عمری میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

آغاخان یونیورسٹی اسپتال کے وائس پرووسٹ ریسرچ اور ماہر امراض قلب پروفیسر ڈاکٹر سلیم ویرانی اس ریسرچ کو کنڈکٹ کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 15 فیصد دل کے دورے چالیس برس سے کم عمر افراد میں ہو رہے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کی دل کی صحت پر تحقیق ناگزیر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں 10 سے 19 سال کے بچوں اور نوجوانوں کے طرزِ زندگی، صحت اور ماحولیاتی عوامل کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں دل کی بیماریوں سے بچاؤ کی مؤثر حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی اور جسمانی سرگرمی کی کمی جیسے روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ جینیاتی عوامل، فضائی آلودگی اور گھروں میں بائیو ماس فیول کے استعمال کے اثرات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کی جامع تحقیق کی جا رہی ہے، جس میں شامل افراد کی آئندہ 10 سے 20 برس تک نگرانی کی جائے گی تاکہ دل کی بیماریوں کے اسباب اور ان کے اثرات کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
سلیم یرانی نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ذیابطیس کے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے جبکہ جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر محفوظ ماحول، واکنگ کے لیے مناسب جگہوں کا فقدان اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی نوجوانوں میں دل کے امراض کے خطرات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر سلیم ویرانی نے کہا کہ کراچی میں ایئر کوالٹی اکثر عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ خراب ہوتی ہے، جو دل کی بیماریوں کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں میں دل کی صحت بہتر بنانی ہے تو ملک میں صحت مند طرزِ زندگی، صاف ماحول، محفوظ عوامی مقامات اور ورزش کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ آئندہ برسوں میں دل کے امراض کی شرح کم کی جا سکے۔

اہم خبریں

فیچر اور تجزیے

اہم خبریں